اصحاب احمد (جلد 1) — Page 24
24 پھر موصوف تحریر فرماتے ہیں: بشارت ہم نہایت خوشی سے ظاہر کرتے ہیں کہ ۴ صفر ۱۳۱۷ھ المقدس مطابق ۱۴ جون ۱۸۹۹ء بروز بدھ بوقت ۳ بجے بعد دو پہر حضرت اقدس جناب امامنا مسیح موعود ادام اللہ فیوضہم کے مشکوے معلی میں چوتھا مبارک بیٹا پیدا ہوا اس تقریب سعید پر مدرسہ تعلیم الاسلام میں ایک دن کی تعطیل رہی۔اخبار الحکم نے اپنا خاص پر چہ شائع کیا جو آج کے نمبر کے ہمراہ بطور ضمیمہ تقسیم ہوتا ہے۔مولود مسعود کا نام حضرت امام صاحب نے مبارک احمد رکھا۔ہماری دلی دعا ہے کہ خدا تعالیٰ اس مولود مسعود کو اپنی برکتوں اور رحمتوں کا مورد بناوے اور خاندان، قوم ملک بلکہ دنیا کے لئے اسے مبارک کرے۔آمین۔۱۵ جون کو ختنہ کیا گیا “ ہے شکل وصورت : صاحبزادہ صاحب کی شکل وصورت کے متعلق حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام فیضہم کی روایت درج کی جاتی ہے۔آپ فرماتے ہیں: ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ شکل کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد کے دو ٹائپ ہیں۔ایک سلطانی اور دوسرا فضلی۔یعنی ایک وہ جو مرزا سلطان احمد صاحب سے مشابہ ہیں۔اور دوسرے وہ جو مرزافضل احمد صاحب سے مشابہت رکھتے ہیں۔سلطانی ٹائپ میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب مبارک احمد صاحب مرحوم امتہ النصیر مرحومہ اور امتہ الحفیظ بیگم شامل ہیں اور فضلی ٹائپ میں عصمت مرحومہ شوکت مرحومہ صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب (یعنی خاکسار مولف ) اور مبارکہ بیگم شامل ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میر صاحب مکرم کی خود ساختہ اصطلاح کی رُو سے سلطانی ٹائپ سے لمبا کتابی چہرہ مراد ہے۔اور فضلی ٹائپ سے گول چہرہ مراد ہے۔۔۔مبارک احمد مرحوم کے متعلق مجھے شبہ ہے کہ وہ بقول میر صاحب سلطانی ٹائپ میں شامل نہیں تھا بلکہ فضلی ٹائپ