اصحاب احمد (جلد 1) — Page 247
246 و آگرہ ضلع میں ہیں۔میں نے فتنہ ملکانہ کے وقت دیکھا کہ قادیانی حضرات نے بھوکے فاقے رہ رہ کر تبلیغ کر کے ارتداد سے لوگوں کو بچایا، چنے کھا کھا کر گزارہ کیا۔اُس وقت کوئی بھی مولوی ہمت نہ کر سکا بلکہ بعض تو آگرہ بیٹھے ہوئے پلاؤ زردہ اُڑاتے رہے۔وہ سارے ساتھیوں کو بتاتے کہ اختلاف عقیدہ علیحدہ چیز ہے۔ساتھ نماز پڑھنا نہ پڑھنا اُن کی مرضی ہے۔جب اُن کا مذہبی عقیدہ ہے تو وہ اپنے اعتقاد پر عمل کریں گے۔ہر شخص کو اختیار ہے کہ وہ اپنے عقیدہ کے مطابق عمل کرے۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے بہت سے اعوان و انصار بھی ان مخالفین کے زمرہ میں پیدا کئے۔جس سے ہماری ہر طرح نصرت غیبی ہوتی رہی۔اللہ تعالیٰ نے ہماری مدد اس طرح بھی کی۔کہ ہمارے جہاز ایس۔ایس انگلستان میں اہلسنت اور اہلحدیث علیحدہ اذان دیتے اور علیحدہ باجماعت نماز اور جمعہ پڑھتے۔بعض دفعہ دلچسپ واقعات ہوتے۔حنفی کہتے ہمارا امام ہونا چاہئے۔اہل حدیث کہتے ہمارا امام ہونا چاہئے۔کبھی ایسا ہوتا کہ دونوں میں سے کوئی ایک مقدم ہو جا تا تو لڑائی ہوتی۔میں ساتھیوں کے سامنے اس مسئلہ کے لئے ان کا عمل دلیل کے طور پیش کرتا۔پھر جہاز میں ایسا بھی ہوا کہ سُنیوں کا جلسہ ہوا۔سنی مولوی کچھ بولا۔اہلحدیث لوگوں کی طرف سے اُس کی تقریر کو روکا گیا۔جھگڑا ہوا اور ہم سب کو مل کر جھگڑا نپٹانا پڑا۔حاجی عزیز صاحب حیدر آباد والوں نے بھی بہت خدمت کی اور مدینہ منورہ میں سیٹھ صاحب کی عیادت کے لئے بار بار آئے۔مرکز فلسطین کی تبلیغ احمدیت : جگہ بہ جگہ معلوم ہوا کہ حیفا ( فلسطین) سے احمدیت کے متعلق عربی رسائل وہاں پہنچتے رہتے ہیں۔بعض لوگ ڈر کر نہیں پڑھتے بعض پڑھ لیتے ہیں۔مخالفت ہندوستان ( متحدہ ) کے مولویوں کی پیداوار ہے۔احمدیوں کو حج سے روکنے والے نچلے طبقہ ہی کے لوگ نہیں ہیں بلکہ اعلیٰ طبقہ کے لوگ بھی ہیں۔اس کی وجہ سے عمومی مخالفت کا رنگ ہے۔باقی وہاں کے ساکنین کو ایسی دلچسپی نہیں کہ وہ حاجیوں سے پوچھتے رہیں کہ آپ کس عقیدہ کے ہیں کس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔مرض الموت : حج کو جانے سے پہلے صحت کی خرابی کے باعث اور جلدی حج کو جانا طے ہونے کے باعث