اصحاب احمد (جلد 1) — Page 227
226 کہ آپ کے پاس آئے دو ایک روز آپ کے ہمراہ نمازیں پڑھیں۔پھر اپنی حاجت پیش کر دی اور پانچ سو چارسو روپیہ لے لیا۔بعض لوگ آپ سے کہتے بھی کہ یہ دکھاوے کیلئے نمازیں پڑھنے آئے ہیں۔لیکن آپ کہتے کہ ہمیں کیا علم کہ اُن کی کیا نیت ہے۔رفاہ عامہ کا کام: آپ کو جس رفاہ عام کے کام کا موقع ملا اس سے دریغ نہیں کیا۔آپ کے کارخانے مہمان خانہ کا کام بھی دیتے تھے۔آپ نے مسجد احمد یہ یاد گیر کے قریب احمدیہ مہمان خانہ بھی تعمیر کیا۔آپ کا دستر خوان بہت وسیع ہوتا تھا۔تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہی جاتی تھی۔یاد گیر میں آپ نے عرصہ تک ایک احمد یہ دواخانہ انگریزی اور ایک احمد یہ دواخانہ یونانی قائم کر رکھے تھے۔گھروں پر بیماری کو دیکھنا ادویہ علاج سب کچھ بلالحاظ مذہب وملت مفت ہوتا تھا۔بسا اوقات سرکاری ہسپتال والے بھی احمد یہ دواخانہ انگریزی سے جن ادویہ کی ضروت پڑتی مفت منگوا لیتے تھے۔ڈاکٹروں، اطباء عملہ اور ادویہ وغیرہ کے جملہ اخراجات سیٹھ صاحب برداشت کرتے تھے۔مولوی عبد القادر صاحب فرائضی احمدی سے بہت سی کتب طب عربی صرف و نخود بینیات اور عقائد پر تصنیف کراکے سیٹھ صاحب نے اپنے خرچ پر شائع کیں۔ایک دفعہ قحط کی وجہ سے عوام کو بہت تکلیف تھی۔آپ نے پانی کی قلت کے دور کرنے کیلئے اپنے باغ کا انجن اکھڑوا کر بستی کے باہر تالاب کے پاس لگوا دیا اور تین ماہ تک اپنے خرچ پر اُسے چلایا۔بلکہ چلانیوالے کے اخراجات بھی خود ادا کئے۔اس طرح عوام کی پانی کی تکلیف دور ہوئی۔اور انہیں بروقت پانی میسر آتا رہا۔کئی جگہ آپ نے باؤلیاں بنوائیں۔سرکاری مدرسہ یاد گیر کو ایک بیش بہا زمین عطیہ دی جواب کھیل کے میدان کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔سادگی اور انکساری: آپ کو اللہ تعالیٰ نے فطرتاً ایسی انکساری بخشی تھی کہ کبھی بھی آپ کے اعمال وافعال اور حرکات وسکنات سے نہ اہلی اور نہ غیر اہلی زندگی میں کوئی شخص یہ سمجھ سکتا تھا کہ آپ لکھ پتی سیٹھ ہیں۔راقم کو بھی ہیں بائیس برس قبل ایک بار قادیان میں آپ کو دیکھنے کا موقعہ ملا۔میں نے آپ کو ایسا ہی سادہ پایا۔آپ تمول سے پیدا ہونے والی عادات واطوار سے فطرتا کوسوں دور تھے تصنع، تکلف ، نعیش اور نخوت و غرور آپ کے قریب تک پھٹکنے نہ پائے تھے اور آپ اپنے خاندان کو بھی ان سے احتراز کی تلقین فرماتے تھے۔لباس بود و باش اور اطوار حد درجہ سادہ خادم بیمار ہو ایا موجود نہ ہو اتو بازار سے سودا سلف خود خرید لائے۔یاد گیرے میں چھپیں میل تک کا سفر بنڈی ( چھکڑے ) پر کرتے جس کا اُن علاقوں میں رواج ہے۔غذا بھی سادہ۔دو وقت روٹی کھاتے وبس۔زبان نہایت شیر ہیں۔طرز