اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 222 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 222

221 ان لوگوں کا یہ حال ہے۔آپ ان کے لے جانے پر کیوں خواہ مخواہ روپیہ ضائع کرتے ہیں۔آپ ہر بات کا روشن پہلو لیتے تھے۔مجھے خوب یاد ہے آپ فرماتے دیکھو یہ پہلے علانیہ نشہ کرتے تھے لیکن زیارت قادیان کے بعد پوشیدہ پینے لگے ہیں اور یہ بات صحیح بھی تھی۔چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آہستہ آہستہ ان لوگوں کی اصلاح ہوتی رہی۔اور ان کی اولاد میں زیادہ اصلاح یافتہ ہو گئی ہیں اور ان میں سے کئی ایک نے احمدیت قبول کر لی ہے۔ان مساعی حسنہ کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک کثیر تعداد میں مسلم و غیر مسلم حلقہ بگوش احمدیت ہوئے۔آپ کی تبلیغ سے آپ کا سارا خاندان بھی احمدیت سے وابستہ ہوا۔مکرم شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی فرماتے ہیں: سیٹھ محمد غوث صاحب حضرت سیٹھ حسن صاحب احمدی رضی اللہ عنہ کے چچازاد بھائی تھے۔حضرت سیٹھ حسن احمدی اس خاندان کے سلسلہ احمدیہ کے آدم تھے۔“ ہے آپ کے ذریعہ اقارب میں سے ذیل کے خاندان احمدی ہوئے۔سیٹھ محمد غوث صاحب۔سگے بھائی سیٹھ محمد خواجہ صاحب * سیٹھ مومن حسین صاحب۔آپ کے برادر نسبتی سیٹھ محمد حسین صاحب چنت کنٹہ۔اسی طرح سیٹھ شیخ حسن صاحب کے ذریعہ یاد گیر۔چنت کننہ (ضلع محبوب نگر۔دکن ) اوکلور ( ضلع محبوب نگر ) کرنول (صوبہ مدراس) کی تمام جماعتیں آپ ہی کے ذریعہ احمدی ہو کر قائم ہوئیں۔ان کی نفری علی الترتیب پانصد۔اتی ہیں اور بارہ افراد پرمشتمل ہے۔۱۹۲۸ء میں مکرم سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب امیر جماعت سکندر آباد (دکن) نے سیٹھ صاحب مرحوم کے تصدیقی فارم پر تحریر فرمایا کہ آپ اچھوت اقوام میں خاص طور پر تبلیغ کرتے ہیں۔“ اور ۱۹۳۴ ء میں مکرم سید بشارت احمد صاحب امیر جماعت ہائے دکن نے مرحوم کی وصیت کے تعلق میں تحریر فرمایا کہ اپنے اثر اور نمونہ کے لحاظ سے حیدر آباد دکن کے مختلف مواضعات اور اضلاع میں کم از کم ایک سو اشخاص کو موصی نے احمدی کر لیا۔“ سیٹھ محمد غوث صاحب کو احمدی بنالینا ہی ایک ایسا بڑا کارنامہ ہے۔جو سیٹھ شیخ حسن صاحب کو زندہ جاوید رکھنے کیلئے کافی ہے۔سیٹھ محمد غوث صاحب سلیم فطرت بلند ہمت، جفاکش، مستقل مزاج اور خود دار تھے۔آپ صحابہ کی خوش قسمتی پر انتہائی رشک اور اپنی محرومی کا غیر محدود احساس رکھتے تھے۔اہل بیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام * بیعت سیٹھ محمد غوث صاحب ۱۹۱۲ ء وفات ۲۸ / فروری ۱۹۴۷ء۔بیعت سیٹھ محمد خواجہ صاحب ۱۹۱۲ ء وفات ۱۹۳۶ء مؤخر الذکر کے قادیان کی زیارت کیلئے آنے کا ذکر الفضل جلد نمبرے (صفحہ ا کالم ۳) بابت ۳۰ جولائی ۱۹۱۳ء میں پایا جاتا ہے۔آپ کی وفات پر حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے سیٹھ شفیع حسن صاحب کو جو تعزیتی مکتوب ارسال کیا۔دوسری جگہ درج کیا گیا ہے۔(مؤلف)