اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 221 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 221

220 درخت کی طرف اشارہ کیا دیکھا کہ ہزاروں قرآن مجید مجو دانوں میں پڑے درخت پر جا بجالٹک رہے ہیں۔میر محمد سعید صاحب نے تعبیر میں فرمایا کہ آپ کو قرآن مجید کی بار بار تلاوت اور اس کی اشاعت کی ہدایت ہوئی ہے۔چنانچہ سیٹھ صاحب نے خود قرآن مجید پڑھا۔یاد گیر میں مدرسہ احمدیہ کے ساتھ اک مدرسہ حفاظ قرآن جاری کیا۔قرآن مجید حفظ کرنے والے بچوں کے لئے انعام و اکرام اور لباس و طعام کا آپ کی طرف سے انتظام تھا۔دوسرے لوگوں کی ترغیب کے لئے آپ سارا قرآن ختم کرنے والے کو ایک سو روپیہ۔نصف ختم کر نیوالے کو ساڑھے پچاس روپے اور چوتھائی ختم کر نیو الے کو سوا چھپیں روپے انعام دیتے تھے۔اس طرح قرآن مجید پڑھنا سیکھ لینے کے علاوہ لوگ وقتی امداد سے بھی فائدہ اٹھا لیتے تھے۔آپ نے ہزاروں روپے کے قرآن مجید بھی مفت تقسیم کئے۔جذبہ تبلیغ احمدیت جیسی نعمت عظمیٰ کا دوسروں کو گرویدہ بنانے کے لئے آپ حد درجہ کوشاں رہتے۔علماء سلسلہ کو ٹلاتے۔لٹریچر تقسیم کرتے اور مختلف طریقوں سے تبلیغ حق اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے سر توڑ کوشش کرتے۔اسی جذبہ کے ماتحت آپ نے اپنے نام اور بہت سے تجارتی کاموں کے ساتھ احمدی اور احمدیہ کے الفاظ لگا رکھے تھے۔اخویم سیٹھ محمد اعظم صاحب بیان کرتے ہیں کہ سیٹھ صاحب نے مختلف مقامات پر اپنے کارخانے کھولے۔جہاں کا رخانہ کھولتے بریکا رلوگ کام پر لگ جاتے۔آپ انہیں تبلیغ کرتے۔نمازیں پڑھاتے۔اس طرح بہت سے لوگ احمدیت کی طرف رجوع کرتے اور بالآ خر احمدی ہو جاتے۔آپ تبلیغ کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔اگر سفر میں ہوتے تو مثلا سیشن پر پہنچے ہیں۔خواہ پندرہ منٹ ٹرین کی روانگی میں باقی ہیں تبلیغی گفتگو شروع کر دیتے۔بالعموم اپنے ساتھی سے مخاطب ہوتے اور پوچھتے کہ بھئی! دنیا میں مصائب آ رہے ہیں اس کی کیا وجہ ہے۔جب وہ کہتا کہ مجھے علم نہیں تو آپ اُسے مخاطب کر کے اس کی وجہ بتا کر بیان کرتے کہ ایسے اوقات میں انبیاء مبعوث ہوتے ہیں۔اور اب بھی ایک نبی مبعوث ہوئے ہیں۔آپ کا طریق بیان اس قدر موثر اور دلنشیں ہوتا تھا کہ پاس بیٹھے مسافر با تیں سنے کیلئے خود ہی آپ کے گرد جمع ہو جاتے۔کبھی آپ اپنے ساتھی کو سلسلہ کا اخبار دے کر سنانے کو کہتے۔اس طرح تبلیغ ہوتی۔آپ ہزاروں روپے کے اخراجات برداشت کر کے کثرت سے لوگوں کو قادیان لے جاتے تھے۔جن میں غیر احمدیوں کی بھی کافی تعداد ہوا کرتی تھی۔چونکہ دکن میں دیہاتی طبقہ کو بالعموم تاڑی کے نشہ کی عادت ہے۔اس لئے جب وہ لوگ قادیان کے دس پندرہ دن کے سفر کے بعد دکن پہنچتے تو نشہ کی عادت کی وجہ سے ان میں سے بعض سیدھے تاڑی کی دکان پر چلے جاتے۔کئی دوست سیٹھ صاحب کو توجہ دلاتے کہ