اصحاب احمد (جلد 1) — Page 220
219 کیا اور راستبازی اور راست گفتاری کا دامن نہ چھوڑا۔جن صبر آزما حالات میں سے آپ کو گزرنا پڑا اس میں صداقت شعاری اور ایمان کی حفاظت بہت ہی مشکل امر تھا۔آپ کے وصیت کے ریکارڈ میں مکرم سید بشارت احمد صاحب امیر جماعت ہائے حیدر آباد کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۳۰ء میں سیٹھ صاحب نے خسارہ کی وجہ سے دو لاکھ روپیہ قرض حاصل کرنے کی کوشش کی۔۱۹۳۴ء میں سیٹھ صاحب نے تحریر کیا کہ گذشتہ تین سال میں میرا تین لاکھ روپیہ کا نقصان ہوا ہے۔ایک لاکھ روپیہ کاروبار میں لگا ہوا ہے۔اور اتنا ہی میرے ذمہ قرض ہے۔اور ۱۹۳۶ء میں تحریر کیا کہ اب آمد دوصد روپیہ ماہوار بھی نہیں رہی۔۱۹۴۰ء میں آپ پر نوے ہزار روپے کے مقدمات دائر تھے۔وکلاء کا خرچ علیحدہ صرف ساٹھ روپے آپ گھر کے اخراجات کے لئے لیتے تھے۔کیونکہ گذشتہ سال کے کاروبار میں صرف دس ہزار روپیہ کی بچت ہوئی تھی جو قوم مقدمات وغیرہ کے بالمقابل کچھ حیثیت نہ رکھتا تھا۔ایک شخص نے آپ سے ایک تیل نکالنے کی مشین (Oil Mill) کا اکیس ہزار میں سودا کر لیا۔مشین پون لاکھ کی مالیت کی تھی۔سودے کا علم پا کر آپ کے بہی خواہوں کو بہت تکلیف ہوئی۔ہزار سر پیٹنے۔سودا فسخ کرنے کی متعدد اور قانو ناجائز را ہیں بتلائیں۔اور گو اس تباہ حالی میں چون ہزار روپے کا نقصان مزید آپ کو بربادی کے اتھاہ گڑھے میں گرادینے اور آپ کو زندہ درگور کرنے کے مترادف تھا۔لیکن آپ نے پورے سکون و انشراح سے کہا کہ میں زبان کر چکا ہوں۔سودا ہو چکا۔اللہ تعالیٰ کو جس کی مافی الصدور پر نظر ہوتی ہے۔یہ ادا ایسی بھائی کہ اس نے اس قلیل رقم کو ہی بابرکت بنا دیا۔آپ یہی قلیل رقم لے کر بہت سے مقامات پر مقدمات کرنے والوں کے پاس گئے۔اللہ تعالیٰ نے ان کے قلوب پر ایسا تصرف کیا کہ انہوں نے رقومات متدعویہ سے کم رقوم لے کر مقدمات ختم کر دئیے۔اس طرح اس قلیل رقم سے بارہ مقدمات نپٹ گئے۔آپ کا بارہ سالہ صبر واستقلال بے شمر نہ رہا۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے عمر دراز عطا کی اور وفات کا حادثہ اس وقت پیش آیا جبکہ نہ صرف مقدمات ختم اور قرضے بے باق ہو چکے تھے۔بلکہ اپنے ورثا کے لئے بھی پریشانی کا کوئی سامان باقی نہ رہا تھا۔کاروبار کی حالت اچھی ہوگئی تھی۔علاوہ ازیں آپ نے اُن کے لئے کافی جائیدا دتر کہ میں چھوڑی۔قرآن مجید سے محبت اور اس کی اشاعت : سیٹھ صاحب نے خواب دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن مجید کی طرف اشارہ کر کے فرماتے ہیں اسے پڑھا کرو۔نیز بیان کرتے تھے کہ ابتدائے قبول احمدیت میں میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد احمد یہ یاد گیر کے چبوترے پر بلند آواز سے قرآن مجید کی تلاوت فرماتے دیکھا۔میں ادب سے کھڑا تلاوت سنا کیا۔حضور کے تلاوت کے بعد میں نے جھک کر السلام علیکم کہا۔حضور نے وعلیکم السلام فرمایا۔اور ایک