اصحاب احمد (جلد 1) — Page 209
208 کیا کرتا تھا۔منشی صاحب کے احباب کو یقین تھا کہ منشی صاحب کو دھوکہ دینا آسان کام نہیں۔وہ چوکس اور بیدار مومن تھے۔حضرت منشی صاحب میں ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ جہاں اپنے احباب کی دنیوی ضروریات کو پورا کرنے میں ان کی مدد کرتے تھے وہاں ان کی بیماری میں با قاعدگی سے تیمارداری بھی کرتے تھے۔بیما راحباب کی تیمارداری کرنا ان کا ایک نمایاں خلق تھا۔حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد سے لے کر جب تک وہ مسجد میں آ کر نماز پڑھنے سے معذور نہیں ہو گئے وہ مسجد نور میں امام الصلوۃ تھے۔اور برسوں کی اس امامت میں شاید ہی کوئی نماز ان کی صحت کی حالت میں ایسی گذری ہو جس کی امامت کے لئے وہ مسجد میں نہ آئے ہوں۔وہ صحیح معنوں میں قائم الصلوۃ انسان تھے۔منشی صاحب بہت غیرت مند مومن تھے۔مجھے انہوں نے بتایا کہ جب سیالکوٹ میں وہ امریکن مشن سکول میں پرائمری کے استاد تھے تو ایک دن تمام اساتذہ کے سامنے سکول کے عیسائی ہیڈ ماسٹریا مینجر نے اپنے انجیل کے وعظ میں اسلام یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی اعتراض نازیبا رنگ میں کیا۔حالانکہ اس وقت اور کئی زیادہ سینئر مسلمان اساتذہ اس وعظ میں موجود تھے لیکن منشی صاحب جو کہ پرائمری کے استاد تھے وہ غیرت سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور نہایت سختی سے اس کو جواب دیا جس سے وہ سخت حیران ہوا۔یہ تھے وہ لوگ جنہوں نے مکتب مسیح" میں تربیت پائی تھی۔درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔خود چھوٹے ہیں وہ لوگ جو ایسی زبردست شہادت کے ہوتے ہوئے خدا کے مسیح کو جھوٹا کہتے ہیں۔اگر مسیح قادیانی راستباز نہ تھا تو اس دنیا میں آج تک کوئی بھی راست باز نہیں گذرا۔“ آپ کے بھائی غلام قادر صاحب: منشی صاحب کے بڑے بھائی غلام قادر صاحب ۱۲۸۰ھ میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ان پڑھ ہیں شاید اس کی وجہ پیدائشی آنکھوں کا نقص تھا۔جوانی میں آدھی آدھی رات تھیٹر تک دیکھنا، نماز نہ پڑھنا آپ کا کام تھا۔منشی صاحب کے احمدی ہونے پر ان کے نمونہ سے متاثر ہو کر نماز پڑھنے لگے اور ان کے کہنے سے بیعت کر لی اور تہجد پڑھنے لگے۔بیعت انہوں نے جہلم جا کر کی تھی۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام وہاں بسلسلہ مقدمہ کرم دین جنوری ۱۹۰۳ء میں تشریف لے گئے تھے۔اکتوبر ۱۹۰۵ء میں قادیان چلے آئے اور اس وقت سے