اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 210 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 210

209 تعلیم الاسلام ہائی سکول میں بطور مددگار کارکن کام کرنے لگے جہاں سے اب پنشن پر ہیں۔بیعت خلافت ثانیہ کرنے کے متعلق منشی صاحب کے حالات میں ان کا ذکر ہو چکا ہے۔آپ نے شادی کی تھی۔لیکن بیوی کی حالت مشکوک ظاہر ہونے کی وجہ سے اسے طلاق دے دی کوئی اولا دزندہ نہیں۔آپ موصی ہیں، تحریک جدید میں شروع سے حصہ لے رہے ہیں۔باوجود با وجود کہ پشن سات روپے کے قریب ہے منارہ مسیح ہال میں آپ نے ایک سورہ پیہ چندہ دیا۔پھر ایک دفعہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ نے خطبہ میں چندہ کی تحریک کی تو آپ نے ایک سورو پیہ دیا۔حضور نے نام لئے بغیر خطبہ میں فرمایا کہ ایک ایسے شخص نے کہ جسے میں خوب جانتا ہوں کہ اتنی حیثیت کا نہیں ایک سوروپیہ چندہ دیا ہے۔اس خاندان میں مندرجہ ذیل صحابی ہیں : (۱) منشی صاحب (۲) ان کی اہلیہ محترمہ (۳) مکرم غلام قادر صاحب برا در منشی صاحب (۴) منشی صاحب کی ہمشیرہ محترمہ زینب صاحبه زوجہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب (۶۵) اس خاندان کی ایک شاخ میں جو محمد کاظم صاحب کی اولاد ہے دو بھائی سلطان محمد صاحب وحسن محمد صاحب۔(۷ تا ۹) منشی صاحب کے تین بچے (۱۰) منشی صاحب کی والدہ صاحبہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کسی تعریف کے محتاج نہیں بہشتی مقبرہ کے سب سے پہلے مدفون ر آپ ہی تھے۔مولوی صاحب کی قبر کو چاردیواری مزار حضرت اقدس کی توسیع کر کے اندر لانے کا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اس طرح بعض اور قبریں بھی چار دیواری میں آگئیں جن میں مولوی صاحب کی اہلیہ زینب صاحبہ کی بھی ہے۔یہ کوئی کم فخر نہیں۔نقشہ میں مولوی صاحب ان کی اہلیہ محترمہ اور محترمہ اہلیہ منشی صاحب کی قبور ظاہر کی گئی ہیں۔منشی صاحب کے بارہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام فیضہم کا مکتوب جو آپ نے خاکسار کے استفسار پر تحریر فرمایا درج کیا جاتا ہے۔