اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 199 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 199

198 تھے تو اسی وقت ان کی بیعت کا بھی خط لکھوا دیا تھا۔آپ خاوند کی بہت فرمانبردار تھیں بلکہ بوقت وفات انہوں نے بچوں کو بھی وصیت کی کہ اپنے والد کا خاص خیال رکھنا اور اس نعمت کی قدر کرنا کیونکہ تم نہیں جانتے کہ وہ کیا ہیں لیکن میں ان کی قدر پہچانتی ہوں۔فالج سے چھ ماہ بہا رہ کر فوت ہوئیں۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے جنازہ پڑھایا اور ڈاکٹر صاحب بیان کرتے ہیں کہ جنازہ کو کندھا بھی دیا۔آپ کی وصیت کا نمبر ۱۰۰۹ تھا۔مدینہ مسیح کے زیر عنوان مرقوم ہے۔نہایت افسوس کے ساتھ لکھا جاتاہے کہ منی محمداسماعیل صاحب سیالکوٹی کی اہلیہ محترمہ کا ایک بی علالت کے بعد ۷ دسمبر ۱۹۳۱ء انتقال ہو گیا۔۱۸ دسمبر جمعہ کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جنازہ پڑھایا۔مرحومہ بہشتی مقبرہ میں دفن کی گئیں۔۵ مرحومہ کے ایک ہی بھائی غلام حیدر صاحب وکیل تھے جو جوانی میں ہی قبول احمدیت سے قبل فوت ہو گئے تھے۔آپ کے خاندان میں سے اور کوئی احمدی نہیں ہوا۔اولاد آپ کی اولاد کے سن ولادت درج ذیل ہیں: * (۱) مکرم محمد عبد اللہ صاحب ( ولادت ۱۸۹۰ء۔وفات ۱۹۴۳ء) صحابی ہونے کا علم نہیں۔(۲) محترمہ حاکم بی بی صاحبہ (ولادت تقریبا ۱۸۹۳ء) انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ہمراہ سیر کو جانا اور اچھی طرح باتیں کرنا یاد ہے انہیں دار اسیح میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے ہاں رہنے کا موقعہ ملا ہے (۳) محترمہ احد بی بی صاحبہ (ولادت ۱۸۹۶ء) انہیں دارا مسیح میں حضرت مولوی صاحب موصوف کے ہاں رہنے کا موقعہ ملا ہے اور انہوں نے حضور کو اچھی طرح دیکھا ہوا ہے۔(۴) مکرم ڈاکٹرمحمد عبد الرشید صاحب (ولادت سے جنوری ۱۸۹۹ء) سیالکوٹ اور لاہور میں حضور کی زیارت کی اور باتیں بھی کیں۔(۵) مکرم بابو عبد اللطیف صاحب (ولادت ۱۹۰۴ء) حضور نے نام رکھا۔حضور کو دیکھنا با بوصاحب کو یاد نہیں۔(1) مکرم محمد اسحاق صاحب نام حضور نے رکھا۔ہجرت اس کا صدمہ اور مرض الموت: منشی صاحب آخری عمر میں ضعیف ہو جانے کی وجہ مسجد میں آنے سے معذور ہو گئے تھے۔لیکن پھر بھی راستہ میں کئی جگہ سانس لے کر عصر کی نماز حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی اقتداء میں ادا کرنے کے لئے مسجد مبارک میں آ پہنچتے۔نماز کے بعد مکرم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب درویش (ابن حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالی) * یہ ساری تفصیل مکرم محمد الحق صاحب سے حاصل ہوئی ہے۔(مؤلف)