اصحاب احمد (جلد 1) — Page 200
199 اور بعض اور دوست آپ کی پاک صحبت سے مستفید ہوتے اور ذکر اللہ اور ذکر رسول سنتے۔۱۹۴۷ء میں دیگر پاک نفس صحابہ کی طرح آپ بھی قادیان سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔لیکن اس کا صدمہ ان کے خطوط کے ایک ایک فقرہ سے پھوٹ پھوٹ کر ظاہر ہوتا تھا۔جو آپ ہم دونوں کو تحریر کیا کرتے تھے۔قادیان سے جدائی قلق و اضطراب کا اندازہ لگانے سے ہم قاصر ہیں۔جب تک طاقت رہی اپنے قلمی خطوط بھیجتے رہے۔لیکن جب ضعف غالب آ گیا تو اپنے بیٹے اخویم محمد اسحاق صاحب سے جواب لکھوانے لگے۔موصوف نے جولائی ۱۹۴۹ء میں مجھے تحریر کیا کہ : والد صاحب فرماتے ہیں کہ میں جب سے قادیان سے آیا ہوں قادیان اور ان میں اپنے احباب بسنے والوں کے لئے ایک دن تو دن رہا شاید ہی کوئی دعا کی جگہ ہوگی اور میں نے ان کے لئے دعانہ کی ہو۔وہ تو قادیان کا نام لیتے ہی بس ہو جاتے ہیں۔اب کمز ور زیادہ ہو گئے ہیں۔اکثر بہشتی مقبرہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔اور قادیان کے دوسرے مقامات یا د کرتے رہتے ہیں۔آخری دنوں میں بھی آپ ہمیشہ پاکیزگی کا خیال رکھتے تھے۔تبلیغ جب تک بولنے کی طاقت رہی کرتے رہتے تھے اور ہمیں وقت پر نماز با جماعت ادا کرنے کی تلقین فرماتے رہتے۔آپ کا آخری فقرہ جو تقریبا غشی کی حالت میں تھا وہ یہ تھا کہ خدا کے حکم کی پیروی کرو اگر کامیابی چاہتے ہو۔نماز آخری وقت تک ادا کرتے رہے اور جب حافظہ میں طاقت نہ رہی تو پھر میری گود میں بیٹھ جاتے اور میں اونچی آواز سے نماز پڑھتا جاتا حتی که ختم کر دیتا۔ایک دن میں نے نماز ذرا جلدی ادا کی اور بعض دعا ئیں بھی چھوڑ گیا۔تو آپ نے نماز کے بعد فرمایا اسحق ! تمہیں تو ابھی تک نماز پڑھنی بھی نہیں آتی جو بھی کوئی آپ کی خدمت کرتا جزاکم اللہ کہتے اور اس کو دعائیں دیتے اور فرماتے کہ یہ احسان ہی ہے اس کا شکر ضروری ہے“۔* وفات: ۱۰ جنوری ۱۹۵۰ء کو قریباً چھ بجے شام منشی صاحب نے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔انالله و انا اليه راجعون - جنازہ مکرم قاضی علی محمد صاحب امام و خطیب مسجد سیالکوٹ نے پڑھا اور آپ کو مقبرہ متصل امام صاحب سیالکوٹ میں امانتا دفن کیا گیا۔آپ کی خواہش تھی کہ موقعہ ملنے پر آپ کی نعش بہشتی مقبرہ میں تدفین کے لئے قادیان لائی جائے۔چند ماہ قبل آپ نے اپنی عمر چھیاسی سال بتائی تھی۔* ** بیان مکرم میاں محمد اسحاق صاحب۔(مؤلف) ** بیان مکرم میاں محمد اسحاق صاحب۔(مؤلف) *