اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 1 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 1

1 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمُدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُوْدِ عرض حال احباب کرام! حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( فداہ روحی وابی واقی ) کے صحابہ کرام کو جو مقام حاصل ہے۔کسی سے مخفی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے انہیں رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ کی ابدی خوشنودی کی سند عطا فرمائی۔نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَ يُتُمُ یعنی میرے اصحاب کی مثال ستاروں کی سی ہے۔کہ ان میں سے جس کی بھی پیروی کی جائے ہدایت کا موجب بنے گی۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس پاک گروہ کے ایک حصہ کے آخری زمانہ میں پیدا ہونے کا ذکر فرمایا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارہ میں فرماتے ہیں : ”ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دوبعث ہیں۔اور اس پر نص قطعی آیت کریمہ وَآخَرِينَ مِنْهُمُ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ہے۔تمام اکابر مفسرین اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس اُمت کا آخری گروہ یعنی مسیح موعود کی جماعت صحابہ کے رنگ میں ہوں گے۔اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرح بغیر کسی فرق کے آنحضرت صلعم سے فیض اور ہدایت پائیں گے۔پس جب کہ یہ امر نص صریح قرآن شریف سے ثابت ہوا۔کہ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض صحابہ پر جاری ہوا۔ایسا ہی بغیر کسی امتیاز اور تفریق کے مسیح موعود کی جماعت پر فیض ہوگا۔تو اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور بعث ماننا پڑا۔جو آخری زمانہ میں مسیح موعود کے وقت میں ہزار ششم میں ہوگا۔‘لے دراصل بعض مجبوریوں اور موانع کی وجہ سے ہم صحابہ حضرت مسیح موعود رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حقیقی قدر کے مناسب رنگ میں اظہار سے قاصر رہے۔بعض اوقات ہم عصر ہونا بھی حقیقی قدر کے پہچاننے میں ایک بڑی روک بن جاتا ہے۔نیز صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات منضبط اور مدون ہو کر ہمارے سامنے موجود ہیں۔لیکن صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق ابھی یہ صورت نہیں۔اور دراصل فقدانِ نعمت سے ہی نعمت کی قدر زیادہ نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جو صحابہ اب وفات پاچکے ہیں۔ان کی خوبیاں