اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 189 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 189

188 یہ درخواست کی گئی کہ کچھ زبانی بھی تقریر کریں۔اس پر حضور کھڑے ہوئے لیکن چونکہ حضور کی آواز ابتداء میں دھیمی ہوتی تھی۔اس لئے کچھ شور ہو اتو مولوی عبدالکریم صاحب نے ہنستے ہوئے کہا کہ میں خاموش کرا دوں۔حضور نے ہنستے ہوئے فرمایا ! ہاں۔اس پر مولوی صاحب نے قرآن مجید کی تلاوت کی اور لوگ خاموش ہو گئے۔میں بالکل قریب سامنے بیٹھا تھا۔قیام گاہ پر واپس آنے پر جماعت سیالکوٹ نے عرض کی کہ حضور سیالکوٹ تشریف لائیں وہاں تقریر کا انتظام کیا جائے گا۔نیز حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کو سیالکوٹ سے آئے کافی عرصہ ہو چکا تھا اس لئے عرض کی کہ حضور انہیں سیالکوٹ جانے کی اجازت عنایت فرمائیں۔حضور نے فرمایا میری ایک پیشی گورداسپور میں ہے اس کے بعد آؤں گا اور مولوی صاحب کو جانے کی اجازت دے دی۔چنانچہ حضور بمعہ اہلبیت (۲۷ اکتوبر 19ء کو وہاں تشریف لے گئے۔فٹن کا انتظام کیا گیا تھا۔سیشن سے حضور اس پر سوار ہوئے۔فٹن کے پیچھے بھی ایک شخص کھڑا ہوا اور آگے کو چوان کی جگہ پر ایک انسپکٹر پولیس اور ایک سارجنٹ درجہ اول سوار ہوئے اور آگے آگے گھوڑے پر سوار آنریری مجسٹریٹ باقر خاں ہاتھ میں ہنٹر لئے راستہ بنواتا جاتا تھا۔حضور کی زیارت کے لئے پبلک دور و یہ کھڑی تھی۔منشی صاحب کا بیان ہے کہ جب حضور سیالکوٹ سے واپس جانے کے لئے ایک بجے بعد دو پہر بند گاڑی میں سٹیشن پر جانے کے لئے سوار ہوئے تو ایک بمب (بانس) خود میں نے اور دوسری طرف کا منشی کریم الدین صاحب ( مالک حارث ہاؤس دار الرحمت قادیان) نے پکڑ لیا اور ساتھ ساتھ چلتے گئے۔ایک حافظ سلطان نامی نے بدمعاشوں کے مشورہ سے اپنے شاگردوں کو جنہیں وہ قرآن مجید پڑھاتا تھا راکھ اور اینٹیں جھولیوں میں بھرنے کو کہا اور دوکانوں کی چھتوں پر کھڑا کر دیا۔اس نے یہ سمجھا کہ جس گاڑی کو ہم دونوں نے پکڑا ہوا ہے اور آگے ہے مستورات کی ہے۔اور ہمیں دھوکہ دینے کے لئے ایسا کیا ہوا ہے۔چنانچہ جب حضور کی گاڑی گذرگئی اور اس کے بعد خادمات والی بند گاڑی گزر رہی تھی اس پر ان شریروں نے راکھ اور اینٹیں وغیرہ پھینکیں۔حضور ریل گاڑی میں سوار ہوئے تو اس پر بھی خشت باری کی۔چنانچہ گاڑی کا ایک شیشہ بھی ٹوٹ گیا۔گاڑی روانہ ہونے کے بعد میں اور منشی کریم الدین صاحب واپس جارہے تھے دیکھا کہ دو بازاری عورتیں پلیٹ فارم پر بیٹھی ہیں اور ایک کہہ رہی ہے ہائے مرزا مجھے بھی ساتھ لے چلو۔پھر کہنے لگی اگر ساتھ لے جائے تو جاتے ہی زہر دے دوں۔ہم دونوں کسی اور راستہ سے واپس گئے اس لئے بچے رہے۔ورنہ دوسرے لوگ اسی راستہ سے واپس گئے ان پر خشت باری ہوئی۔حتی کہ مولوی برہان الدین صاحب جہلمی جو بوڑھے آدمی تھے ان پر بھی ہوئی۔مولوی صاحب بھاگے اور شیخ مولا بخش صاحب کی دکان میں پناہ لی۔لیکن وہاں بھی خشت باری ہوتی رہی، یہاں تک کہ پولیس پہنچی اور اس نے ان لوگوں کو منتشر کیا۔چند ایک دن کے بعد صبح کے وقت اسی حافظ سلطان کا بھائی نبی بخش