اصحاب احمد (جلد 1) — Page 187
186 * آپ نے وہیں گزار دیں اور قادیان نہیں آئے۔کوئی آٹھ دن باقی تھے میں قادیان آگیا۔ایک دفعہ مولوی صاحب مرحوم نے میری ہمشیرہ سے کہا کہ محمد اسماعیل ( کا عجیب حال ہے ) لوگوں کو تو تبلیغ کرتا رہتا ہے ( اور احمدیت کی تائید میں جھگڑتا تھا ) اور خود بیعت نہیں کرتا یہ بات سمجھ نہیں آتی۔میری ہمشیرہ نے مجھے جب یہ بات سنائی تو میں نے خود مولوی صاحب سے پوچھا کہ کیا آپ نے ایسا کہا ہے؟ مولوی صاحب نے فرمایا ہاں۔تو میں نے مولوی صاحب کو کہا کہ میں علیحدگی میں بیعت کروں گا اور میرے دل میں یہ خیال تھا کہ میں حضرت صاحب سے عرض کرونگا کہ ہر بات میں دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا اقرار مجھ سے نہ لیں۔یعنی اس عہد سے مجھے معاف کر دیں۔مولوی صاحب نے فرمایا کہ ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا ( میں نے کہا کہ پھر بیعت بھی کبھی نہیں ہوسکتی ) پھر اس کے کچھ عرصہ بعد ( کہ انہی تعطیلات کا آخری دن تھا) میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور دل میں ارادہ تھا کہ حضرت صاحب پر اپنا خیال ظاہر کر دونگا۔لیکن جب حضرت صاحب مسجد میں تشریف لائے اور مغرب کی نماز کے بعد تشریف فرما ہوئے تو کسی شخص نے عرض کی کہ حضور کچھ آدمی بیعت کرنا چاہتے ہیں۔آپ نے فرمایا ”آجائیں اس آ جائیں“ کے الفاظ نے میرے دل پر ایسا گہرا اثر کیا کہ مجھے ( کچھ ہوش نہ رہا) وہ تمام خیالات بھول گئے اور میں بلا چون و چرا آگے بڑھ گیا۔(حضور نے میرا ہاتھ پکڑ لیا) اور ( میں نے ) بیعت کر لی۔بیعت کے بعد جب حضرت صاحب کو میرے ان خیالات کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ ہماری بیعت کی تو غرض ہی یہی ہے کہ ہم دینداری پیدا کریں۔اگر ہم دین کو مقدم کرنے کا اقرار نہ لیں تو کیا پھر یہ اقرار لیں کہ میں دنیا کے کاموں کو مقدم کیا کروں گا۔اس صورت میں بیعت کی غرض وغایت اور حقیقت ہی باطل ہو جاتی ہے۔“ * روایت نمبر ۸۵۷ مندرجہ سیرۃ المہدی حصہ سوم۔بیعت کے متعلق میں نے مطبوعہ روایت درج کر دی ہے۔منشی صاحب نے مجھے بیعت کا واقعہ لکھوا دیا تھا۔اس میں بعض باتیں زائد ہیں جو اسی روایت میں خطوط وحدانی میں زائد کر دی ہیں۔مطبوعہ روایت میں قادیان آنے کا سال غالبا ۳ ۱۸۹ ء درج ہوتا ہے۔مجھے منشی صاحب نے لکھوایا تھا کہ ۱۸۹۳ء یا ۱۸۹۴ء کا یہ واقعہ ہے اور اس وقت آپ پہلی بار قادیان آئے تھے اور یہ بیعت کا واقعہ پہلی بار کی زیارت کے ایام کا ہی آپ بتلاتے تھے چونکہ منشی صاحب کی روایت کی رُو سے آتھم کی میعاد کے اختتام کے نزدیک آپ کا پہلی بار قادیان آنا یقینی۔یہ ۱۸۹۴ء کی بات ہے۔اس لئے کہ آتھم کی معیاد کی آخری تاریخ ۵ ستمبر ۱۸۹۴ تھی ( بحوالہ انوارالاسلام صفحہ )