اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 186 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 186

185 قادیان کی پہلی بار زیارت آمد ورفت اور بیعت : * جب عبد اللہ آتھم کی میعاد کے آخری دس پندرہ دن رہتے تھے تو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے جومنشی صاحب کے بہنوئی تھے لکھا کہ اپنی ہمشیرہ کو لے آئیں۔چنانچہ منشی صاحب ہمشیرہ کو لے کر آئے اور اس طرح پہلی بار قادیان دیکھنے کا موقعہ ملا۔آپ غالباً سوا ماہ تک قادیان میں رہے۔ان دنوں نواب بہاولپور نے شیخ رحمت اللہ صاحب مالک انگلش ویئر ہاؤس لاہور کی معرفت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں درخواست کی تھی کہ حضور حضرت مولوی صاحب کو علاج کرنے کے لئے بہاولپور جانے کی اجازت دیں چنانچہ حضور نے پندرہ دن کی اجازت دی تھی اور حضرت مولوی صاحب گئے ہوئے تھے۔قادیان میں نہ تھے۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے منشی صاحب کا تعارف حضرت اقدس سے کرا دیا تھا۔اور حضور آپ کو اچھی طرح جاننے لگ گئے تھے۔اور آپ نے بعض نمازیں بھی مسجد مبارک میں باجماعت ادا کی تھیں۔انہی ایام میں منشی صاحب ایک دفعہ بیعت پر آمادہ ہوئے تھے۔اس بارہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام میض ہم فرماتے ہیں: " بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی محمد اسماعیل صاحب سیالکوٹی نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی میرے ماموں زاد بھائی تھے اور میرے بہنوئی بھی تھے۔عمر میں مجھ سے قریباً آٹھ سال بڑے تھے۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت مجھ سے پہلے کی تھی۔اور اس کے بعد وہ ہمیشہ تحریک کرتے رہتے تھے کہ میں بھی بیعت کرلوں۔غالبا ۱۸۹۳ء میں ایک خواب کی بناء پر میں بھی بیعت کے لئے تیار ہو گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بیعت کی غرض سے حاضر ہوا۔( غالباً جمعہ کا دن اور مسجد اقصیٰ مقام تھا ) اس وقت اتفاق سے میرے سامنے ایک شخص حضرت صاحب کی بیعت کر رہا تھا۔میں نے جب بیعت کے یہ الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان سے سنے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھونگا تو میرا دل بہت ڈر گیا کہ یہ بہت بھاری ذمہ داری ہے جسے میں نہیں اُٹھا سکوں گا۔اور میں بغیر بیعت کئے واپس لوٹ گیا۔اس کے بعد میں ہر سال تعطیلات موسم گرما جو ڈیڑھ پونے دو ماہ کی ہوتی تھیں قادیان آ کر گزارتا۔اور کبھی جلسہ سالانہ پر بھی آجاتا۔تمبر ۱۹۰۰ ء میں مولوی صاحب نے لکھا کہ افسوس ہے کہ اس دفعہ تمام تعطیلات * ان ہی ایام میں حضور نے آتھم کے رجوع کے متعلق جو تقریر فرمائی تھی اس بارہ میں منشی صاحب کی روایت اس کتاب میں میاں اللہ بخش صاحب امرتسری کے حالات میں درج ہو چکی ہے۔(مؤلف)