اصحاب احمد (جلد 1) — Page 185
184 ہو گئیں۔بہت ملنسار اور محبت کر نیوالی تھیں۔باوجو د سخت بوڑھی ہو جانے کے سوال کر کے کام کرانے کو نا پسند کرتی تھیں اور خود اُٹھ کر کام کرتی تھیں۔ان کے تینوں بھائی چوہدری سلطان محمد صاحب والد مولوی عبدالکریم صاحب۔جان محمد صاحب۔محمد بخش صاحب احمدی تھے۔ولادت، تعلیم اور حلیہ : منشی صاحب شہر سیالکوٹ میں ۱۲۸۳ھ میں پیدا ہوئے۔ناظرہ قرآن مجید پڑھ کر مشن سکول میں داخل ہوئے۔چوتھی جماعت میں ایک پادری انجیل پڑھاتا تھا۔آپ اس پر اعتراض کرتے۔جب وہ سوالات سے تنگ آجاتا تو منشی صاحب کو مارتا۔پھر ایک روز تنگ آ کر اس نے کہا کہ اگر خدا مسلمانوں کو بخش دے گا تو وہ عدالت کے تخت سے گر کر کیچڑ میں بھر جائے گا۔پھر آپ امریکن مشن سکول میں داخل ہو گئے۔وہاں چھٹی جماعت میں ایک ہی استاد آدھ گھنٹہ بائیل اور دو گھنٹہ انگریزی پڑھاتا تھا۔آپ بائیل پر اعتراض کرتے جس سے انگریزی کا وقت بھی گذر جاتا۔آخر پر اُستاد آپ کو پیٹتا اور کہتا کہ جب تک تم سکول میں ہو کوئی عیسائی نہیں ہوگا۔اور جب تک تمہیں سکول سے نکلوانہ دونگا مجھے چین نہ آئے گا۔ایک روز اس نے ایسا مارا کہ آپ کے ہاتھ کا انگوٹھا سوج گیا۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کو علم ہوا تو آپ نے سکول جانے سے منع کر دیا اور خود گھر پر فارسی پڑھانے لگے۔آپ کا کلیہ یہ تھا۔گورا رنگ، خوبصورت شکل، درمیانہ قد، تقسیم ملک تک آپ کے جسم میں کبڑا پن ظاہر نہیں ہوا تھا۔عینک لگاتے تھے، چہرہ سے متانت اور بے خوفی اور خود اعتمادی ظاہر تھی۔تجارت اور مذہبی حالت : چند سال منشی صاحب نے کوئٹہ حیدر آباد دکن اور بمبئی وغیرہ میں کپڑے کی تجارت کی۔بعد ازاں ۱۸۹۵ ء میں مشن سکول سیالکوٹ میں بطور استاد ملازم ہو گئے۔احمدیت قبول کرنے سے قبل ایک شخص کے کہنے پر کہ نماز میں کوئی مادی فائدہ نہیں نماز ترک کر دی تھی۔طبیعت میں شروع سے آزادی اور بے پروائی تھی۔تاش کے کھیل میں بہت طاق تھے اور اس شہرت کی وجہ سے سیالکوٹ کے ایک ریڈر نے بلایا اور تاش کھیلنے کے بعد آپ کے کمال کی بہت تعریف کی۔اور ملازمت دلانے کا وعدہ کیا۔لیکن آپ نے پسند نہ کیا۔پہلے آپ حنفی تھے۔پھر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی وجہ سے وہابی بنے اور پھر انہی کی وجہ سے نیچری ہوئے۔پھر ان امور سے بیزار ہوئے اور قادری طریق کے فقیر بنے انہوں نے بھی یہی کہا کہ ظاہری نماز کوئی چیز نہیں۔