اصحاب احمد (جلد 1) — Page 181
179 میں تھے میں اس میں نہیں تھا۔پھر فرمایا ان دونوں گروہوں کو بہشت کے مختلف مقامات میں لے جاؤ۔میں اس وقت کہتا ہوں کہ جو مقام مجھ کو عطاء ہوا ہے میں تو اس کے قابل بھی نہیں۔ہر طرح موجب تشکر ہے۔میں اس پر خوش بھی ہوں۔مگر ایک بات میری جان کو کھاتی ہے کہ میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اب علیحدگی ہوگی میں نے اس خیال سے زار و قطار رونا شروع کر دیا۔اللہ تعالیٰ نے میری زاری دیکھ کر فرمایا تم تو بہت روتے ہو۔اچھا سب کو ایک ہی جگہ لے جاؤ۔۔۔۔۔۔! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی لے جاؤ۔اس پر مجھے تسکین ہوئی اور میں جاگ پڑا۔اے اللہ ! یہ میرے نفس کی بناوٹ نہ ہو میں واقعی اس قابل نہیں مگر تو سچے وعدوں والا ہے۔میں کمزور ہوں۔میں نے دیکھا ہے کہ میں اپنی طاقت سے بدی سے نہیں بچ سکا۔ہر وقت کمزوری محسوس کی کہ اب گرا کہ گرا۔مگر تو نے بر وقت مجھ کو سنبھالا اور میری مدد کی۔اے پیارے مولا تیرے سایہ میں میری عمر کا بہت بڑا حصہ گذر گیا اب کوئی دم کی بات ہے۔اب بھی مجھے اپنی حفاظت اور عنایت سے محروم نہ رکھنا۔میں تو اب بھی گر سکتا ہوں۔ہاں پیارے تو ہی بچا کے رکھ اور میری جماعت میرے دوستوں اور میرے اہل وعیال اور بچوں پر اپنا فضل رکھ ان کے نیک اور اپنے دین کے خادم بنا۔حضرت مسیح موعود کے شعر کو ذرا سے تصرف سے بطور دعا کے عرض کرتا ہوں لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول میں ہوں نالائق مجھے تو بخش دے درگاہ میں بار والسلام دوستوں کو سلام۔بزرگان سلسلہ کو آل مسیح موعود کو خلیفہ وقت کو سلام اور درخواست دعا۔خاکسار مولا بخش پنشنر حال پریذیڈنٹ میونسپل کمیٹی قادیان 11-07-46