اصحاب احمد (جلد 1) — Page 182
180 اہلیہ ملک صاحب: ملک صاحب کے برادر نسبتی قادر بخش صاحب ( پسر میاں الہ بخش صاحب امرتسری ) بھی علاقہ بندی کا کام ہی کرتے تھے۔پہلوانی بھی کرتے تھے۔اپنے والد صاحب کی بیعت کی وجہ سے احمدی تھے۔یقینی طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ انہوں نے حضور کی زیارت کی تھی یا نہیں۔بعارضہ ہیضہ ۱۹۰۹ء میں اٹھارہ سال کی عمر میں وفات پائی۔محترمہ اہلیہ ملک صاحب کو حضور کے زمانہ میں قادیان آنا یاد نہیں۔البتہ بیان کرتی ہیں کہ یہ اچھی طرح یاد ہے کہ حضور جب کہ ایک بارمیاں معراج الدین صاحب عمر کے ہاں لاہور میں مقیم تھے تو میں اور صاحبزادی نواب مبار که بیگم صاحبہ جو دونوں بچہ ہی تھیں اس مکان میں لکڑی کی سیڑھی پر چڑھتی اترتی تھیں۔حضور نے فرمایا کہ گر نہ جانا میں نے کہا کہ ”نہیں“ ہم نہیں گرتے اس وقت حضور نے ٹو کا پاجامہ اور دیسی جوتی پہنی ہوئی تھی اور ٹہلتے ٹہلتے کچھ لکھ رہے تھے۔کھیلتے کھیلتے ہم دونوں ننگے پاؤں حضور کے بستر پر چڑھ گئیں۔حضور نے ایک امرود چیر کر ہم دونوں کو دیا اور پانچ دانے انگور بھی دیئے جو کھالئے نیز یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ حضور کے فرمانے پر میری والدہ نے حضور کو ڈاک سنائی اور حضور نے جو جواب لکھوائے وہ لکھے۔ایک خادمہ دودھ کا پیالہ لائی تو حضور نے دریافت فرمایا آیا والدہ دودھ پیئیں گی تو والدہ نے عرض کی حضور تہاڈا دودھ کتھے“ کہ حضور کا عطا کردہ دودھ کہاں نصیب مجھے یہ بھی یاد ہے کہ میں نے والد صاحب سے آ کر کہا کہ سی تے کہندے ہی کہ ساڈے مرزا صاحب ہن۔ایہناں دیاں تے اکھیاں ہی ہن نہیں۔اونہاں نوں تو دسدا ای نہیں۔یعنی آپ تو کہتے تھے کہ ہمارے مرزا صاحب ہیں۔ان کی تو آنکھیں ہی نہیں۔ان کو تو نظر نہیں آتا۔اس پر والد صاحب مجھے ناراض ہوئے کہ یہ کیا کہہ رہی ہوحضوڑ کی تو آنکھیں موجود ہیں اور درست ہیں۔گویا کہ حضور کی خوابیدہ نگاہی کا بچوں کو بھی احساس تھا۔(۱۹۰۶ء میں ) شادی کے وقت میری عمر چودہ سال کی تھی۔* * یہ سارا بیان زیر عنوان اہلیہ ملک صاحب اخویم ملک سعادت احمد نے اپنی والدہ صاحبہ سے دریافت کر کے لکھا ہے۔(مؤلف)