اصحاب احمد (جلد 1) — Page 171
169 باوجود یکہ آپ نے با قاعدہ مدرسہ میں تحصیل علم عربی نہ کی تھی۔آپ کو عربی بول چال میں کافی محاورہ ہو گیا تھا۔آپ کو اس بات سے قطعا بچکچاہٹ نہ تھی کہ میں کس کو استاد بناؤں۔وہ جسے بھی دیکھتے تھے اس سے سبق پڑھ لیتے تھے۔چنانچہ میں نے انہیں مولوی جلال الدین صاحب قمر مجاہد افریقہ ولد میاں علم الدین صاحب شہید (حلقہ مسجد فضل قادیان ) سے بھی جوان ایام میں مدرسہ احمدیہ کے طالب علم تھے سبق پڑھتے ہوئے دیکھا۔آپ کے شوق کا نتیجہ یہ ہوا کہ اگر میں نے موسمی تعطیلات میں کہیں باہر جا کر آپ کو خط لکھا تو آپ نے مجھے ہمیشہ عربی میں جواب دیا تا کہ میں دوسرا خط عربی میں لکھوں۔* مطالعہ کتب کا شوق: رض ناظم جائیداد بھی تھے۔اس دفتر کے فارغ اوقات میں اور اُن کے گھر میں بھی جب کبھی میں اُن سے ملا ہمیشہ مطالعہ میں مصروف پایا۔الا ماشاءاللہ۔اُن کے اندر تذبر اور تفکر اتنا تھا کہ نئے نئے معانی کا استنباط اور استدلال کرنے میں انہیں خاص ملکہ حاصل تھا۔چنانچہ الفضل وغیرہ اخبارات میں جو مضامین اُن کے شائع ہوتے رہے وہ اس پر دال ہیں۔جہاں وہ اعلیٰ نامہ نگار اور اچھے مضمون نویس تھے۔وہاں وہ عمدہ شاعر بھی تھے اور ہماری درخواست پر لوکل جلسوں میں اپنی تقاریر سے لوگوں کو محظوظ فرمایا کرتے تھے بالخصوص جلسہ سيرة النبیؐ میں وہ نظم بھی سنایا کرتے اور تقریر بھی فرماتے تھے۔علاوہ ازیں میں نے انہیں اخبار بینی کی مداومت کرتے ہوئے بھی دیکھا اور انہیں ملک کی فضا سے خوب باخبر پایا** - مرحوم پبلک کے عام مفاد کا بھی خیال رکھتے تھے۔دیہات سُدھار کے متعلق انہوں نے ایک منظوم رسالہ بھی شائع کرایا تھا۔“ * خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ اگر میں کسی وقت آپ کے پاس دفتر میں آجاتا تو بعض اوقات مجھ سے بھی عربی کا سبق پڑھ لیتے تھے۔آپ نے اپنی وفات سے ڈھائی ماہ قبل مکتوب مورخہ ۵۰-۱۳۸ میں مجھے تحریر کیا کہ کیا وہاں سے مولوی غلام محمد والی لغت تسہیل العربیل سکتی ہے۔میرے پاس الحمد اللہ مند ہے جو میں لے آیا تھاوہ (تسہیل العربیہ ) وہیں رہی۔“ ** (الف) مقامی جلسوں میں ملک صاحب کی تقریروں کا ذکر الفضل میں موجود ہے۔چنانچہ (۱) ۱۳/ اگست ۱۹۳۹ء کو قادیان میں تحریک جدید کے جلسہ میں ملک صاحب کی بھی تقریر ہوئی جو وقف رُخصت اور پنشنر احباب خدمت دین کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں“ کے موضوع پر تھی۔اس میں آپ نے فرمایا ” سورہ انشراح میں خدا تعالیٰ نے (حاشیہ اگلے صفحہ پر )