اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 128 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 128

126 وصیت کی دوہری ادائیگی: آپ موصیہ تھیں اور وصیت کے تمام چندوں کا حساب بہت اہتمام سے کر کے اپنی زندگی میں ہی ادا کر دیا تھا۔حصہ جائیداد کی رقم ایک دفعہ ادا کی لیکن دفتر کی غلطی سے ساری رقم کسی اور مذ میں داخل ہوگئی۔ایک عرصہ کے بعد اس غلطی کا پتہ چلا۔اس کا ازالہ کا غذات میں درستی کے ذریعہ بآسانی ہو سکتا تھا لیکن آپ نے اُسے پسند نہ کیا کہ اگر غلطی سے بھی دوسرے چندہ میں رقم داخل ہو گئی ہو تو اُسے وہاں سے دوسری مد میں تبدیل کیا جائے۔چنانچہ پھر دوبارہ وصیت کا چندہ داخل کر دیا۔قادیان سے ہجرت کے بعد ربوہ میں اقامت پر اصرار : دیگر صحابہ اور صحابیات کی طرح آپ کو بھی قادیان سے ہجرت کا بہت صدمہ تھا۔اور باوجود یکہ آپ کی ساری اولا د کوشاں تھی کہ آپ کو ہر طرح سے آرام پہنچے۔آپ کی صحت دن بدن گرتی گئی۔حالانکہ آپ کے دو داماد اور ایک نواسہ ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے آپ کو ساری طبی سہولتیں میسر تھیں۔لیکن ہجرت کے صدمہ کی وجہ سے آپ کی کمزوری بڑھتی ہی گئی۔جب ربوہ کا مرکز ۱۹۳۸ء میں قائم ہو اتو آپ کو یہ معلوم کر کے بہت خوشی ہوئی کہ آپ کے بیٹے چو ہدری ظہور احمد صاحب کو بوجہ کارکن صدر انجمن احمد یہ ہونے کے وہاں رہائش رکھنے کا موقعہ ملا ہے۔اور جب آپ کو یہ معلوم ہوا کہ موصیوں کے لئے ایک خاص قبرستان بنایا جا رہا ہے تو آپ ۱۹۴۸ء میں ہی اصرار کر کے ربوہ چلی گئیں، حالانکہ وہاں آپ کو وہ سہولتیں میسر ہونے کا امکان نہ تھا جو دوسری جگہ حاصل تھیں۔وفات: آپ سے نومبر کو صبح ایک بجے کے قریب اپنے مولائے حقیقی سے جاملیں۔انا للہ و انا اليه راجعون۔آپ کی تاریخ ولادت محفوظ نہیں ہے۔انداز اآپ کی عمر بوقت وفات اسی (۸۰) سال تھی۔آپ کی خواہش تھی کہ آپ کا جنازہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز پڑھائیں۔آپ کی اس خواہش کو بھی اللہ تعالیٰ نے عجیب رنگ میں پورا کیا۔۵ نومبر کو آپ کی طبیعت یکدم سخت خراب ہوگئی۔اقارب کو جو چند روز پہلے ہی اس وجہ سے واپس چلے گئے تھے کہ آپ کی طبیعت رو بصحت معلوم ہوتی تھی، تار دیے گئے۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اس وقت لاہور میں قیام فرما تھے۔4 نومبر کی شام کوطبیعت پھر سنبھل گئی۔اور ے نومبر کی رات کو طبیعت اچھی تھی۔وفات سے پانچ منٹ قبل تک آپ اپنی بہو اہلیہ چوہدری ظہور احمد صاحب سے باتیں کرتی رہیں۔نومبر کو خدا تعالیٰ کی رحمت کا خاص تصرف ہوا اور عین اس وقت جب کہ آپ کا جنازہ قبرستان کے قریب پہنچا تو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ ربوہ تشریف لے آئے۔گویا آپ کی وفات کو اللہ تعالیٰ