اصحاب احمد (جلد 1) — Page 119
117 کرتے کہ اگر کسی نماز میں بوجہ مجبوری نہ آ سکتے تو تمام دوست پوچھنے لگتے کہ آج منشی صاحب نہیں آئے۔کیا وجہ ہے؟ گوقرآن مجید کی تلاوت ہمیشہ باقاعدگی کے ساتھ کرتے تھے مگر قادیان میں مقیم ہو جانے کے بعد کثرت تلاوت کی وجہ سے بسا اوقات چھٹے ساتویں روز قرآن کریم کا ایک دور ختم کر لیتے تھے۔قرآن مجید سے آپ کی محبت اس امر سے ظاہر ہے کہ آخری بیماری میں جب آپ خود تلاوت نہ کر سکتے تھے اور بالکل کمزور ہو گئے تھے تو اپنے نواسے حافظ ڈاکٹر مسعود احمد صاحب سے قرآن مجید سنا کرتے تھے۔قادیان کے ریلوے اسٹیشن کے تعلق میں خدمت سلسلہ : ۱۹۲۸ء میں جب قادیان میں ریلوے لائن آ رہی تھی، سلسلہ کے مفاد اور قادیان کی ترقی کوملحوظ رکھتے ہوئے ضروری تھا کہ لائن قادیان سے شمال کی طرف سے گذرے۔اس موقعہ پر معاندین سلسلہ نے اپنی عادت سے مجبور ہو کر اس کی مخالفت شروع کر دی اور یہ کوشش کی کہ لائن قادیان کے جنوب سے گذرے۔اگر ان کی یہ خواہش پوری ہو جاتی تو قادیان کے لوگوں بالخصوص احمدی آبادی کو سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا۔چونکہ مخالفین کی طرف سے پوری سرگرمی کے ساتھ کوشش جاری تھی اس لئے جماعت کی طرف سے بھی افسران کو ہر وقت صحیح حالات سے آگاہ کرنا ضروری تھا۔یہ کام حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام مینھم کی نگرانی میں شروع ہوا اور مکرم مولوی عبد المغنی خان صاحب سابق ناظر دعوۃ و تبلیغ کو اس کام پر مقرر کیا گیا۔منشی صاحب کو حضرت صاحبزادہ صاحب نے ان کا نائب مقر فر مایا۔کئی ماہ تک منشی صاحب سارا سارا دن پیدل سفر کر کے تندہی سے کام کرتے رہے۔آخر اللہ تعالیٰ نے اس میں جماعت کو کامیابی نصیب کی۔ایک اور خدمت سلسلہ : جس وقت قادیان کے قریب سکھوں نے مذبح گرایا ہے، بعض سکھوں کی طرف سے عام دیہات میں شورش پیدا کی جارہی تھی۔مرکز کی طرف سے آپ کو ایک رات جب کہ اُن کی طرف سے زیادہ شرارت ہو رہی تھی بھجوایا گیا تا کہ علاقہ کے مسلمانوں کو سکھوں کی حرکات سے راتوں رات آگاہ کر دیا جائے۔چنانچہ آپ نے دیگر مددگاروں کے ساتھ راتوں رات کئی دیہات کا دورہ کیا اور اس کام کو باحسن طریق سرانجام دیا۔سلسلہ کے لئے غیرت: آپ سلسلہ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور بزرگان سلسلہ کی شان میں کسی قسم کی گستاخی ہر گز برداشت نہ کر سکتے تھے۔ایک دفعہ آپ کے ایک افسر کے منہ سے سلسلہ کے خلاف نازیبا الفاظ نکل گئے۔آپ