اصحاب احمد (جلد 1) — Page 118
116 جلسہ سے صرف چند روز پہلے یہ کام حضرت میاں صاحب کے سپر داس لئے کیا ہے کہ انتظام میں نقص واقع ہو اور حضرت خلیفہ مسیح الاوّل پر یہ اثر ہو کہ میاں صاحب میں انتظامی قابلیت نہیں۔منشی صاحب کی طبیعت بہت جوشیلی تھی۔فوراً لکڑی کے انتظام میں مشغول ہو گئے اور تین چار دن میں حسب ضرورت لکڑی بھجوا دی۔سارا سارا دن خود کھڑے رہ کر لکڑی کٹواتے اور گڑوں پر لد وا کر قادیان بھیجتے۔خود بڑھئیوں کے ساتھ لکڑی کٹوانے میں مدد دے رہے تھے کہ دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی کٹ گئی۔اپنی اولاد کو یہ ساراواقعہ سُنا کر بہت خوش ہوا کرتے تھے۔بعد ازاں مستقل طور پر قادیان میں رہائش اختیار کرنے کے بعد کئی سال تک جلسہ سالانہ کے موقعہ پر آپ بطور افسر دیگ بیرون قصبہ خدمات سرانجام دیتے رہے۔خلافت ثانیہ سے وابستگی : حضرت خلیفہ مسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت باوجود اس کے کہ منشی صاحب کے تعلقات ان لوگوں سے جو مرکز کو چھوڑ کر لاہور چلے گئے دوستانہ تھے آپ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ثابت قدم رہے۔آپ قادیان جمعہ کی نماز پڑھنے کے لئے آئے ہوئے تھے کہ حضور کی وفات کا علم ہوا۔اس روز گاؤں واپس چلے گئے اور دوسرے روز بال بچوں سمیت قادیان آ کر حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی بیعت کی۔ایک عرصہ تک غیر مبائعین آپ کو پیغام صلح، اور اپنا دوسر لٹریچر بھجواتے رہے۔لیکن آپ کی وابستگی خلافت کے ساتھ بڑھتی ہی گئی۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ آپ کو بے حد عشق تھا اور اپنی اولاد کو بھی اس بات کی تلقین فرمایا کرتے تھے کہ جب تک تمہاری وابستگی اس خاندان کے ساتھ رہے گی تم ترقی کرتے رہو گے۔ادا ئیگی جمعہ کے لئے قادیان آتے رہنا، تہجد گذاری با جماعت نمازوں کی ادائیگی وغیرہ : میاں بیوی دونوں کا بعض دوسرے دیہات میں رہنے والے پرانے احمدی مخلصین کی طرح یہ طریق تھا کہ جمعہ کی نماز کی خاطر بلا ناغہ قادیان پہنچتے۔جمعہ کے روز صبح اپنے گاؤں سے پیدل چل کر قادیان آتے اور نماز جمعہ کے بعد واپس پیدل ہی گاؤں کو چلے جاتے۔سخت سردی یا سخت گرمی کی پرواہ نہ کرتے اور برسات میں بارش سے بچنے کا سامان کر لیتے۔سردیوں میں ذرا دن چڑھے گاؤں سے چلتے اور جمعہ کے معا بعد واپس چلے جاتے۔اور گرمیوں میں صبح سویرے چل پڑتے اور شام کے قریب دن ڈھلے واپس ہوتے۔قادیان ہجرت کر کے آنے تک دونوں میاں بیوی اس طریق پر کار بند ر ہے۔قادیان میں آپ کو دیکھا گیا کہ سوائے سخت مجبوری کے ہمیشہ نماز باجماعت ادا کرتے۔پہلی صف میں امام کے قریب بیٹھا کرتے اور اس قدر با قاعدگی کے ساتھ نماز باجماعت ادا