اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 117 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 117

115 خاکسار عرض کرتا ہے کہ انبیاء کو علم غیب نہیں ہوتا۔پس ایسی روایتوں کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مامورین سے اصلاح کا کام لینا ہوتا ہے اس لئے انہیں بسا اوقات دوسروں کے خیالات کا علم دیا جاتا ہے یا بغیر علم دینے کے ویسے ہی ان کی زبان کو ایسے رستہ پر چلا دیا جاتا ہے جو سامعین کے شکوک کے ازالہ کا باعث ہوتا ہے۔“ ایک نشان کا گواہ ہونا : آپ ایک نشان کے گواہ ہیں۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف فرماتے ہیں: و بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی امام الدین صاحب سابق پٹواری نے مجھ سے بیان کیا کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی والے مقدمہ زیر دفعہ ۱۰۷ کی پیشی دھار یوال میں مقرر ہوئی تھی۔اس موقعہ پر میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ حضور ! محمد بخش تھانیدار کہتا ہے کہ آگے تو مرزا مقدمات سے بچ کر نکل جاتا رہا ہے اب میرا ہاتھ دیکھے گا۔حضرت صاحب نے فرمایا۔میاں امام الدین ! اس کا ہاتھ کا ٹا جائے گا۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ کی ہتھیلی میں سخت درد شروع ہوگئی اور وہ اس درد سے تڑپتا تھا اور آخر اسی نامعلوم بیماری میں وہ دُنیا سے گذر گیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ لیفٹینٹ ڈاکٹر غلام احمد صاحب آئی۔ایم۔ایس نے جو کہ محمد بخش صاحب تھانیدار کے پوتے ہیں، مجھ سے بیان کیا کہ ان کے دادا کی وفات ہاتھ کے کار بنکل سے ہوئی تھی * “ ہے جلسہ سالانہ ۱۹۰۸ء پر سلسلہ کی خدمت: جب کبھی سلسلہ کومنشی صاحب کی خدمات کی ضرورت ہوتی ، آپ کو ہمیشہ مستعد پایا جاتا اور جو کام بھی آپ کے سپر د ہوتا اُسے پوری ہمت و کوشش سے سرانجام دیتے۔ایک دفعہ جلسہ سالانہ ۱۹۰۸ء سے چار پانچ روز پہلے حافظ حامد علی صاحب رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے اور کہا کہ مجھے حضرت میاں صاحب (حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف خاص طور پر یہ پیغام دیکر بھیجا ہے کہ آپ نے جلسہ سالانہ کے لئے لکڑی کا انتظام کرنا ہے۔گو صرف چند روز رہ گئے ہیں۔لیکن لکڑی جلسہ پہلے پہنچ جائے۔حافظ صاحب نے یہ بھی بتایا کہ اس دفعہ مولوی محمد علی صاحب اور دوسرے اراکین انجمن نے * ان روایات کے علاوہ منشی صاحب کی روایات الفضل میں بھی شائع ہو چکی ہیں۔(مؤلف)