اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 95 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 95

94 نے کئی بار اس کا ذکر کیا۔تھوڑی دیر بعد سیاہی بڑھنی شروع ہوئی حتی کہ آفتاب کا زیادہ حصہ تاریک ہو گیا۔تب حضور نے فرمایا کہ ہم نے آج خواب میں پیاز دیکھا تھا اس کی تعبیر غم ہوتی ہے۔سوشروع میں سیاہی کے خفیف رہنے سے * ظہور میں آیا۔آپ تین سو تیرہ صحابہ میں سے تھے: مرزا ایوب بیگ صاحب کو اللہ تعالیٰ نے یہ فخر بھی بخشا کہ آپ تین سو تیرہ صحابہ میں سے تھے۔چنانچہ آپ کے متعلق فہرست ۳۱۳ اصحاب میں اس طرح اندراج ہے: ۴۱۔مرزا ایوب بیگ صاحب معہ اہلبیت (یعنی کلانوری) ایک الہی نشان کے گواہ: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مقدمہ ڈاکٹر مارٹن کلارک کی خطرناک صورت کے متعلق الہام ہوا۔مخالفوں میں پھوٹ۔اور ایک شخص متنافس کی ذلت اور اہانت۔چنانچہ ۱۰ اگست ۱۸۹۷ء کو بٹالہ میں ایک پیشی ہوئی۔اس وقت فریق مخالف کی طرف سے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بطور گواہ پیش ہوئے اور عدالت میں کرسی مانگنے پر ان کی ذلت ہوئی۔بلکہ باہر نکلے تو وہاں بھی کئی بار ذلیل ہوئے اس پیشی کی تفصیل میں مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی درویش تحریر فرماتے ہیں کہ اس موقعہ پر فرشتہ سیرت صالح نوجوان مرزا ایوب بیگ بھی پہنچے۔صاحب مغفور۔۔راقم کو اس مقدمہ کے تعلق میں حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ نے ایک روایت لکھوائی تھی چونکہ وہ مطبوعہ مل گئی ہے اس لئے اسے یہاں درج کر دیتا ہوں۔حضرت مفتی محمد صادق فرماتے ہیں: ایک پرانی بات مجھے یاد آئی جس کے شاہد حضرت مولانا شیر علی صاحب تھے اس واسطے میں نے اس کا ذکر حضرت مولانا صاحب سے کر کے ان سے درخواست کی کہ وہ اس واقعہ کو اپنی قلم مبارک سے لکھ کر دیں۔چنانچہ جو کچھ انہوں نے لکھ دیا وہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔محمد صادق ” جن دنوں مارٹن کلارک والا مقدمہ تھا۔ان دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مضمون بطور جواب دعوی خود تحریر فرمایا۔اس کو خوشخط لکھوا کر حضور کی خدمت مکرم مفتی محمد صادق صاحب نے میرے دریافت کرنے پر جو اب تحریر فرمایا۔میں اس نماز میں شامل تھا۔مولوی محمد احسن صاحب نے نماز پڑھائی تھی۔دوستوں نے سیاہ شیشے میں گرہن دیکھا۔باقی باتیں مجھے یاد نہیں۔“ ( مکرم مفتی صاحب کی ذکر حبیب صفحہ ۲۰ پر مطبوعہ روایت سے بھی تصدیق ہوتی ہے۔(مؤلف) *