اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 8 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 8

8 ان کی زندگی میں ان پر ایمان لائے تھے ہزار ہا درجہ ان کو بہتر خیال کرتا ہوں اور ان کے چہرہ پر صحابہ کے اعتقاد اور صلاحیت کا نور پاتا ہوں۔ہاں شاذ و نادر کے طور پر اگر کوئی اپنی فطرتی نقص کی وجہ سے صلاحیت میں کم رہا ہو تو وہ شاذ و نادر میں داخل ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ میری جماعت نے جس قدر نیکی اور صلاحیت میں ترقی کی ہے۔یہ بھی ایک معجزہ ہے۔ہزارہا آدمی دل سے فدا ہیں۔اگر آج ان کو کہا جائے کہ اپنے تمام اموال سے دستبردار ہو جاؤ تو وہ دستبردار ہو جانے کے لئے مستعد ہیں۔پھر بھی میں ہمیشہ ان کو اور ترقیات کے لئے ترغیب دیتا ہوں۔اوران کی نیکیاں ان کونہیں بناتا۔مگر دل میں خوش ہوں۔“ سے اس بارہ میں حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: لوگوں کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی کے ابتدائی ایام میں آپ پر ایمان لائے، آپ سے تعلق پیدا کیا اور ہر قسم کی قربانیاں کرتے ہوئے اس راہ میں انہوں نے ہزاروں مصیبتیں اور تکلیفیں برداشت کیں۔ان کی وفات جماعت کے لئے کوئی معمولی صدمہ نہیں ہوتا۔میرے نزدیک ایک مومن کو اپنی بیوی اپنے بچوں اپنے باپ اپنی ماں اور اپنے بھائیوں کی وفات سے ان لوگوں کی وفات کا بہت زیادہ صدمہ ہونا چاہئے۔پس ایسے لوگوں کی وفات ایک بہت بڑا اور اہم مسئلہ ہوتا ہے اور ان لوگوں کے لئے دعا کرنا ان پر احسان کرنا نہیں ہوتا۔بلکہ اپنے اوپر احسان ہوتا ہے۔کیونکہ جو شخص ان لوگوں کے لئے دعا کرتا ہے۔خدا تعالیٰ اس کا بدلہ دینے کے لئے اپنے فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس دعا کرنے والے کے لئے دعا کریں اور یہ بات تو ظاہر ہی ہے کہ تمہاری دعا سے خدا تعالیٰ کے فرشتوں کی دعا زیادہ سنی جائے گی۔حدیثوں میں آتا ہے کہ جب کوئی مومن نماز میں اپنے بھائی کیلئے دعا کرتا ہے تو اس وقت وہ اپنے لئے دعا سے محروم نہیں ہوتا۔بلکہ اس وقت فرشتے اس کی طرف سے کھڑے ہو جاتے ہیں اور جو کچھ خدا تعالیٰ سے وہ اپنے بھائی کے لئے مانگتا ہے اور کہتا ہے کہ خدایا اسے فلاں چیز دے وہی دعا فرشتے اس کے لئے مانگتے ہیں اور کہتے ہیں یا اللہ ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ تو اس دعا کو مانگنے والے کو بھی وہ چیز دے جو یہ اپنے بھائی کے لئے مانگ رہا ہے۔