اصحاب احمد (جلد 1) — Page 9
9 میں آج کا خطبہ بھی اسی مضمون کے متعلق پڑھنا چاہتا ہوں اور جماعت کے دوستوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ وہ لوگ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ابتدائی زمانہ میں خدمات کی ہیں ایسی ہستیاں ہیں جو دنیا کے لئے ایک تعویذ اور حفاظت کا ذریعہ ہیں۔چونکہ یہ مغربیت کے زور کا زمانہ ہے اس لئے لوگ اس کی قدر نہیں جانتے اور وہ یہ نہیں سمجھتے کہ خدا تعالیٰ کا کس طرح یہ قانون ہے کہ پاس کی چیز بھی کچھ حصہ ان برکات کا لے لیتی ہے۔جو حصہ برکات کا اصل چیز کو حاصل ہوتا ہے۔قرآن کریم نے اس مسئلہ کو نہایت ہی لطیف پیرایہ میں بیان فرمایا اور لوگوں کو سمجھایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی کی بیویاں تمہاری مائیں ہیں۔یہ بات تو ظاہر ہی ہے کہ نبی کی بیویاں نبی نہیں ہوتیں پھر ان کو مومنوں کی مائیں کیوں قرار دیا گیا ہے۔اسی لئے کہ اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا ہے کہ ایسے آدمی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے خاص طور پر برکات لے کر آتے ہیں ان کے ساتھ گہرا تعلق رکھنے والا انسان بھی کچھ حصہ ان برکات سے پاتا ہے جو اُ سے حاصل ہوتی ہیں۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب کبھی بارش نہیں ہوتی تھی اور نماز استسقاء ادا کرنی پڑتی تھی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس طرح دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے خدا پہلے جب کبھی بارش نہیں ہوتی تھی اور ہماری تکلیف بڑھ جاتی تھی تو ہم تیرے نبی کی برکت سے دعا مانگا کرتے تھے اور تو اپنے فضل سے بارش برسا دیا کرتا تھا۔مگر اب تیرا نبی مہم میں موجود نہیں۔اب ہم اس کے چچا حضرت عباس کی برکت سے تجھ سے دعا مانگتے ہیں۔چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ دعا کی تو ابھی آپ نے اپنے ہاتھ نیچے نہیں کئے تھے کہ بارش برسنی شروع ہو گئی۔اب حضرت عباس خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی عہدے پر قائم نہیں کئے گئے تھے۔ان کا تعلق صرف یہ تھا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے اور جس طرح بارش جب برستی ہے تو اس کے چھینٹے ارد گرد بھی پڑ جاتے ہیں۔بارش صحن میں ہو رہی ہوتی ہے تو برآمدہ وغیرہ بھی گیلا ہو جاتا ہے۔اسی طرح خدا کا نبی ہی اس کا نبی تھا۔مگر اس سے تعلق رکھنے والے اس کی بیویاں اس کے بچے اس کی لڑکیاں اس کے دوست اور اس کے رشتہ دارسب ان برکات سے کچھ نہ کچھ حصہ لے گئے جو اس پر نازل ہوئی تھیں۔کیونکہ یہ خدا کی سنت اور