اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 77 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 77

76 غلام فاطمہ صاحبہ کی بیعت: محتر مہ غلام فاطمہ صاحبہ پرانی صحابیہ تھیں۔لیکن آپ بتاتی تھیں کہ مجھے سن بیعت یاد نہیں۔بڑھاپے کی وجہ سے آپ کا حافظہ کام نہیں کرتا تھا۔آپ کے والد تو آپ کی چھ سال کی عمر میں ہی فوت ہو چکے تھے۔لیکن والدہ بیگم جان صاحبہ زندہ تھیں۔لیکن افسوس کہ وہ احمدیت سے وابستہ نہ ہوئیں۔آپ بیان کرتی تھیں کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت اپنے خاوند کی بیعت کے جلد بعد کی۔اس وقت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احم صاحب ( خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ کی عمر پانچ چھ سال کی ہوگی۔" آپ کو حضرت اقدس کی زندگی میں کئی باردار امیج میں ٹھہرنے کا موقعہ ملا۔لیکن زیادہ تر آپ حضرت مولوی نور الدین صاحب (خلیفہ المسیح الاوّل) رضی اللہ عنہ کے ہاں قیام کیا کرتی تھیں۔دورانِ قیام میں حضرت اماں ( حرم حضرت خلیفہ اسیح الاول) کا کھانا وغیرہ تیار کرنے میں مدد کیا کرتی تھیں۔آپ کھانا پکانے میں مہارت رکھتی تھیں۔اور حضرت مولوی صاحب آپ کا پکا ہوا کھانا تناول فرما کر آپ کے لئے اور آپ کی اولاد کیلئے دعا فرمایا کرتے تھے۔* * خصائل: ** آپ اپنے خاوند کی وفات کے بعد امرتسر میں ہی مقیم رہیں اور اپنے داماد ملک مولا بخش صاحب کے پنشن پا کر ۱۹۳۳ء میں قادیان آنے تک محلہ کے بچوں کو قرآن مجید پڑھاتی تھیں۔آپ کو دعا میں بہت شغف تھا اور سلسلہ احمدیہ اور حضرت امیر المومنین خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی اور سب احمدیوں کے لئے ہمیشہ دعا کیا کرتی تھیں۔مرض الموت اور وفات: آپ کسی خاص بیماری سے بیمار نہیں ہوئیں بلکہ بڑھاپے کی وجہ سے ضعف اور نقاہت تھی۔دل کمزور ہوا اور باتیں کرتے کرتے مئی ۱۹۵۰ء کو بروز ہفتہ بوقت سو اسات بجے شام وفات پا گئیں۔آخری بات جو آپ نے کی وہ دعاء۔دعا کے الفاظ تھے۔انا لله وانا اليه راجعون - * حضور کی ولادت ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء کی ہے۔(مؤلف) * * ملک مولا بخش صاحب بیان کرتے تھے کہ موصوفہ کے اکثر وہاں قیام کر نیکی وجہ یہ تھی کہ حضرت مولوی صاحب کے شاگر د حکیم مولوی غلام محمد صاحب امرتسری پسر عبداللہ صاحب بٹ موصوفہ کے ماموں زاد بھائی تھے۔بلکہ رضاعی بھائی تھے۔حکیم صاحب تین دن کے تھے کہ ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا اور غلام فاطمہ صاحبہ کی والدہ صاحبہ نے حکیم صاحب کو محبت سے اپنی سپردگی میں لے لیا اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ کہ گو وہ حالت رضاعت میں نہ تھیں لیکن ان کی چھاتیوں میں خود بخود دودھ اتر آیا۔جس سے انہوں نے حکیم صاحب کی پرورش کی۔(مؤلف)