اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 73 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 73

72 کرنے کا موجب بنے۔آپ کا نام اس فہرست میں یوں درج ہے: ۱۹۸۔میاں اللہ بخش صاحب علاقہ بندا مرتسر ہے غالباً آپ کے والد صاحب تو آپ کے قبول احمدیت کے وقت زندہ نہیں تھے لیکن آپ کی والدہ مسماۃ اللہ جوائی زندہ تھیں۔لیکن افسوس کہ وہ احمدیت کی نعمت سے محروم رہیں۔آتھم کی پیشگوئی اور آپ کی استقامت : آتھم اور اس کے ساتھیوں کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ : آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جب کہ میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں۔تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمد ا جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور نیچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنارہا ہے۔وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی ۱۵ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے گا۔اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔اور جو شخص سچ پر ہے اور بچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب یہ پیشگوئی ظہور میں آوے گی بعض اندھے سو جاکھے کئے جاویں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے۔اور بعض بہرے سنے لگیں گے۔۔۔میں اس وقت یہ اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی، یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہادیہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔مجھ کو ذلیل کیا جاوے رُوسیاہ کیا جاوے۔میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے مجھ کو پھانسی دیا جاوے ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں۔اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ضرور کرے گا۔ضرور کرے گا۔زمین و آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ملیں گی۔“ سے آتھم حق کی طرف رجوع کرنے کی شرط پورا کر کے موت سے وقتی طور پر بچ گیا۔اس پر مخالفین نے شور و شر کیا۔بلکہ جماعت کے بعض افراد کے قدم بھی اس زلزلہ عظیم کے وقت ڈگمگائے۔مکرم منشی محمد اسماعیل صاحب سیالکوٹی نے مجھ سے بیان کیا کہ :