اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 66 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 66

65 مولوی رحیم اللہ صاحب لاہوری رضی اللہ عنہ احمدیت سے قبل کے حالات: آپ اعلی درجہ کے موحد تھے۔آپ کو اکثر فقرا اور سجادہ نشینوں کی خدمت میں حاضر ہونے کا اتفاق ہوا۔مگر سب کو شرک کے کسی نہ کسی رنگ میں ملوث پایا اور آپ کا دل کسی کی بیعت کے لئے آمادہ نہ ہو ا حتی کہ اخوند صاحب سوات نہیز کا شہرہ سُن کر اتنا لمبا سفر طے کر کے وہاں پہنچے اور بیعت کے لئے عرض کی۔اخوند صاحب نے مولوی صاحب کو اپنی صورت کا تصور دل میں رکھنے کی تلقین کی۔اس پر آپ چشم پر آب ہو گئے اور کہا افسوس ! میرا اتنا دور دراز کا سفر اختیار کرنا رائیگاں گیا۔اخوند صاحب بھی شرک کی ہی تلقین کرتے ہیں۔اور پھر بغیر بیعت کئے واپس لوٹے۔بیعت حضرت مسیح موعود : مولوی صاحب صوفی منش، سادہ طبیعت، منکسر المزاج کم گو خلوت پسند عاشق قرآن وحدیث اور باخدا بزرگ تھے۔آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک خاص مناسبت اور عشق تھا۔آپ مکرم میاں معراج الدین صاحب عمر ( مدفون بہشتی مقبرہ قطعہ خاص) کے سکونتی مکان متصل واٹر ورکس لاہور کے سامنے کی مسجد میں امامت کراتے تھے۔اس جگہ کئی بار نماز پڑھاتے ہوئے عالم بیداری میں آپ پر کشفی حالت طاری ہوئی۔نیز آپ کو حضرت رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم اور کئی اور انبیاء وصلحاء کی زیارت بار ہا رویا اور کشوف میں ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت آپ پر نہایت عجیب اور بین الہام رویا اور کشف سے واضح ہوئی تھی۔چنانچہ فرماتے تھے کہ میں نے حضرت کے دعاوی کے متعلق استخارہ کیا تو جواب میں ایک ڈولا ( پالکی ) کو آسمان سے اترتے دیکھا اور میرے دل میں القاء ہوا کہ حضرت مسیح آسمان سے اتر آئے ہیں۔جب پالکی کا پردہ * یہ حالات مکرم ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے اپنے بھائی مرزا ایوب بیگ صاحب رضی اللہ عنہ کے حالات کے ضمن میں تحریر کئے تھے۔مزید حالات جن سے مولوی صاحب کی خانگی زندگی اولا ڈوفات وغیرہ پر روشنی پڑے تا حال معلوم نہیں ہو سکے۔البتہ آپ ۲۲ جنوری ۱۸۹۷ء تک فوت ہو چکے تھے کیونکہ ضمیمہ انجام آتھم میں مندرجہ فہرست میں آپ کے نام کے ساتھ "مرحوم" تحریر ہے اور ضمیمہ کے آخر پر تاریخ تصنیف ۲۲ جنوری ۱۸۹۷ ء درج ہے۔اس وقت پرانے زندہ صحابہ میں سے مکرم بھائی عبدالرحیم صاحب قادیانی درویش اور مکرم بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی درویش بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نہ مولوی صاحب کو دیکھا ہے نہ ہی اُن کے متعلق ہمیں کسی قسم کا علم ہے۔(مؤلف)