اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 59 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 59

59 اہلیبیت ڈاکٹر سید عبدالستار صاحب کا اخلاص اور سیدہ ام طاہر پر انعام الہی اللہ تعالیٰ کسی اخلاص کو ضائع نہیں کرتا بلکہ اس سے بڑھ کر کون قدردان ہو سکتا ہے۔سو جس اخلاص کے ساتھ حضور علیہ السلام کے فرمانے پر صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کے ساتھ شادی کے لئے بچی پیش کی گئی تھی۔اسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا اور نواز چنا نچہ سیدہ بشری بیگم صاحبہ کے ساتھ اپنے نکاح کا اعلان فرماتے ہوئے حضرت امیر المومنین خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ” دنیا میں بعض اعمال بظاہر متفرق کڑیاں معلوم ہوتے ہیں اور بعض اعمال ایک زنجیر کی طرح چلتے ہیں۔آج جس واقعہ کا میں ذکر کرتا ہوں وہ بھی اسی زنجیر کی قسم کے واقعات میں سے ہے۔آج سے ۳۸ سال قبل ایک واقعہ یہاں ہوا تھا۔ہمارا ایک چھوٹا بھائی تھا جس کا نام مبارک احمد تھا، اس کی قبر بہشتی مقبرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار کے مشرق کی طرف موجود ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو وہ بہت ہی پیارا تھا۔مجھے یاد ہے جب ہم چھوٹے ہوتے تھے ہمیں مرغیاں پالنے کا شوق پیدا ہوا۔کچھ مرغیاں میں نے رکھیں، کچھ میر محمد الحق صاحب مرحوم نے رکھیں اور کچھ میاں بشیر احمد صاحب نے رکھیں۔اور بچپن کے شوق کے مطابق مقابلہ ہم ان کے انڈے جمع کرتے، پھر ان سے بچے نکالتے، یہاں تک کہ سو کے قریب مرغیاں ہوگئیں۔بچپن کے شوق کے مطابق صبح ہی صبح ہم جاتے مرغیوں کے دڑبے کھولتے انڈے گنتے اور پھر فخر کے طور پر ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے کہ میری مرغی نے اتنے انڈے دیئے ہیں، اور میری نے اتنے۔ہمارے اس شوق میں مبارک احمد مرحوم بھی جا کر شامل ہو جاتا۔اتفاقاً ایک دفعہ وہ بیمار ہو گیا۔اس کی خبر گیری سیالکوٹ کی ایک خاتون کرتی تھیں جن کا عرف دادی پڑا ہو اتھا۔ہم بھی اسے دادی ہی کہتے اور دوسرے سب لوگ بھی۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اسے دادی کہنے پر بہت چڑا کرتے تھے۔مگر اس لفظ کے سوا شناخت کا کوئی اور ذریعہ بھی نہ تھا اس لئے آپ بجائے دادی کے انہیں جگ دادی کہا کرتے تھے۔جب مبارک احمد مرحوم بیمار ہو ا تو دادی نے کہدیا کہ یہ بیمار اس لئے ہوا ہے کہ مرغیوں کے پیچھے جاتا ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بات سنی تو فوراً حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ مرغیاں گنوا کر ان بچوں کو قیمت دیدی