اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 53 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 53

53 کہ اصل میں یہ ایک مقدمہ میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے خط لکھا گیا تھا، خدا کی رضامندی مد نظر نہ تھی۔اس بات کو اچھی طرح سے سمجھ لینا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے دو طرح کی تقسیم کی ہوئی ہے۔کبھی تو وہ اپنی منوانا چاہتا ہے اور کبھی انسان کی مان لیتا ہے۔یہ نہیں ہوتا کہ ہمیشہ انسان کی مرضی کے مطابق ہی کام ہوا کریں۔اگر ایسا سمجھا جائے کہ خدا کی مرضی ہمیشہ انسان کے ارادوں کے موافق ہو تو پھر امتحان کوئی نہ رہا۔کون چاہتا ہے کہ آرام عیش و عشرت اور ہر طرح کے سکھ سے دُکھ میں مبتلاء ہوں۔جس کے تین چار بیٹے ہوں وہ کب چاہتا ہے کہ یہ مر جائیں۔اور کون چاہتا ہے کہ میری تمام خوشیاں دُکھوں اور مصیبتوں سے تبدیل ہو جاویں۔غرض خدا نے امتحان کو انسان کی ترقی کے لئے اور یا اس کی بد گوہری ظاہر کرنے کے لئے مقرر کیا ہے۔بہت لوگ امتحان کے وقت طرح طرح کی باتیں بنانے لگ جاتے ہیں اور طرح طرح کے باطل تو ہمات اور وساوس انہیں اُٹھا کرتے ہیں۔مگر اصلی بات یہ ہے کہ فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَ هُمُ اللَّهُ مَرَضًاحِ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ۔یادرکھو خدا کا ساتھ بڑی چیز ہے۔اگر فرض بھی کر لیں کہ نہ کوئی بیٹا ر ہے نہ کوئی مال و دولت رہے پھر بھی خدا بڑی دولت ہے۔اس نے یہ کبھی نہیں کیا کہ جو اس کے ہو کر رہتے ہیں ان کو بھی تباہ کر دیا ہو۔اس کے امتحان میں استقلال اور ہمت سے کام لینا چاہئے۔یاد رکھو کہ امتحان ہی وہ چیز ہے جس سے انسان بڑے بڑے مدارج حاصل کر سکتا ہے۔نریاں نمازاں اور دنیا کے لئے ٹکراں کچھ چیز نہیں۔مومن کو چاہئے کہ خدا کے قضاء و قدر کے ساتھ شکوہ نہ کرے اور رضاء بالقضاء پر عمل کرنا سیکھے۔اور جو ایسا کرتا ہے میرے نزدیک وہی صدیقوں، شہیدوں اور صالحوں میں سے ہے۔جان سے بڑھ کر اور تو کوئی چیز نہیں، اس کو خدا کی راہ میں قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔اور یہی وہ بات ہے جو ہم چاہتے ہیں۔فرمایا ” ہمیشہ ایسا ہوتا رہتا ہے کہ انسان جہاں چاہتا ہے کہ بیمار بچ جاوے۔وہاں غلطیاں ہو جاتی ہیں۔اس پر ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب نے عرض کی کہ چند دن ہوئے حضور نے فرمایا تھا کہ خواب میں دیکھا ہے کہ اس مکان میں موت ہونے والی ہے اور بکری ذبیح کی گئی اور ان دنوں میں مولوی نور الدین صاحب چونکہ بیمار تھے۔اس لئے ان کی نسبت