اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 46 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 46

46 کے کتبہ کے لئے چند شعر بھی تحریر فرمائے جو آپ کے جذبات قلب کی عمدہ تصویر ہیں۔۲۸ صاحبزادہ صاحب کی وفات پر حضور کا اُسوہ حسنہ : صاحبزادہ صاحب کی وفات کے ذکر پر مکرم منشی محمد اسماعیل صاحب سیالکوٹی مرحوم نے مجھ سے تحریر أبیان کیا: مرزا مبارک احمد صاحب کی وفات کے وقت میں قادیان میں تھا۔صرف میں اور مولوی محمد علی صاحب مسجد مبارک کی چھت پر تھے کہ ہمیں آپ کی وفات کا علم ہوا۔اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ کام خراب ہو گیا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بچہ کے متعلق بہت سی پیشگوئیاں کی تھیں، اب لوگوں نے آپ سے تو کچھ پوچھنا نہیں اور ہماری شامت آ جائے گی۔یہ بات مولوی صاحب نے اتنی بلند آواز سے نہیں کی تھی کہ نیچے تک سنی جاتی لیکن بڑے زور سے نیچے سے آواز آئی، معلوم نہیں کہنے والا کون تھا کہ کتاب تریاق القلوب کا فلاں صفحہ دیکھو۔مولوی صاحب کتاب لائے دیکھا کہ حضور نے الہام کی یہ تشریح لکھی تھی کہ مبارک احمد یا تو بہت نیک ہوگا یا جلد فوت ہو جائے گا۔یہ پڑھ کر مولوی صاحب نے کہا کہ اب بات بن گئی ہے۔میں مرحوم کے جنازہ میں شامل ہوا۔جس وقت قبر تیار ہورہی تھی تو حضور ورلی طرف درختوں کے سایہ میں تشریف رکھتے تھے اور ایسی طرز پر لوگوں کو صبر کی تلقین کر رہے تھے گویا کہ حضور کا اپنا بچہ فوت نہیں ہوا بلکہ دوسروں کا بچہ فوت ہوا ہے اور حضور تعزیت کے لئے آئے ہیں اور انہیں تسلی دے رہے ہیں۔“ اس سلسلہ میں مکرم ملک مولا بخش صاحب مرحوم سابق ناظم جائیداد صدر انجمن احمد یہ وصدر بلد یہ قادیان نے مجھ سے تحریراً بیان کیا: ” جب صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کی وفات ہوئی تو ڈاکٹر عباداللہ صاحب سردار فضل حق صاحب اور خاکسار اپنے خیالات اور جذبات کے ماتحت افسوس کرنے کے لئے قادیان گئے۔امرتسر سے روانہ ہوتے وقت ایک دوست نے کہا کہ میراسلام علیکم حضور کی خدمت میں عرض کر دیں، تو سردار فضل حق صاحب نے جواب دیا ہم تو محض افسوس کرنے جار ہے ہیں، کسی کا سلام پہنچانے کا موقعہ نہیں۔حضور نے جس قدر کوشش صاحبزادہ صاحب مرحوم کی تیمارداری پر کی تھی اس سے عام دنیا دار انسان یہی اندازہ لگا سکتا تھا کہ حضور بڑے رنج