اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 42 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 42

42 ہے جو جماعت کے لئے موجب پریشانی ہوگا۔“ ”باغ جانے کی بہت خواہش رکھتا تھا سو خدا نے جلد باغ میں پہنچا دیا۔آخر تک ہوش قائم رہا جس صبح کو وفات ہوئی اس سے پہلے رات کو کئی بار حضرت کو بلایا اور آپ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیکر مصافحہ کیا گویا آخری ملاقات کی۔اللہ تعالیٰ جنت نصیب کرے۔حضرت نے خود جنازہ پڑھایا۔66 تخمینا اگست میں حضرت نے خواب میں دیکھا تھا کہ آپ مقبرہ بہشتی میں ہیں، قبر کھد واتے ہیں، سو ایسا ہی ظہور میں آیا۔“ صاحبزادہ صاحب کے مبارک اخلاق: صاحبزادہ صاحب کے مبارک اخلاق کے متعلق مکرم مدیر صاحب بدر لکھتے ہیں : مبارک احمد نہایت حلیم طبع بچہ تھا۔کوئی شوخی اس کی طبیعت میں نہ تھی۔ایام بیماری میں ہر ایک تلخ سے تلخ دوا کو اس نے بخوشی خود ہی پی لیا تھا۔اور اردو پڑھنا لکھنا بھی سیکھ گیا تھا قرآن شریف پڑھ لیا تھا۔ایام بیماری میں بھی ذرا طبیعت اچھی ہوتی تو کتاب لے بیٹھتا۔ا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: قرآن شریف پڑھ لیا تھا، کچھ کچھ اردو بھی پڑھ لیتا تھا۔اور جس دن بیماری سے افاقہ ہوا میرا سارا اشتہار پڑھا۔اور یا کبھی کبھی پرندوں کے ساتھ کھیلنے میں مشغول ہو جاتا تھا۔**۲۲ مکرم مدیر صاحب بدر تحریر کرتے ہیں۔اس بچہ سے بچپن کی حالت میں بعض خوارق بھی ظاہر ہوئے تھے۔چنانچہ ۴ اپریل ۱۹۰۵ء کے زلزلہ سے پہلے وہ بار بار کہا کرتا تھا کہ زمین ہل گئی ، زمین ہل گئی۔آخر وہ زلزلہ آیا جس کی اس ملک میں نظیر نہیں پائی جاتی تھی۔۲۳ * یہ تمام اقتباسات الحکم جلدا انمبر ۳۳ بابت ۷ ار ستمبر ۱۹۰۷ ء و بدر جلد ۶ نمبر ۳۸ بابت ۱۹ ستمبر ۱۹۰۷ء سے لئے گئے ہیں۔ہر دو میں ایک ہی مضمون شائع ہوا تھا۔(مؤلف) ** صاحبزادہ صاحب کو مدرسہ تعلیم الاسلام میں داخل کیا گیا تھا۔چنانچہ ان کے داخلہ کے متعلق ذیل کا اندراج ملتا ہے۔تاریخ داخله نام طالب علم ولدیت سکونت ۲۱ نومبر ۱۹۰۶ء میاں مبارک احمد ولد حضرت اقدس مرزا غلام احمد مسیح موعود قادیان نام جماعت دوم پرائمری اکتوبر میں پرائمری سکول میں ایک سو انیس طالب علم تھے۔رسالہ تعلیم الاسلام جلد اول نمبر ۵ بابت ماہ نومبر ۶، ص۲۰۱۱۹۷ (مؤلف)