اصحاب احمد (جلد 1) — Page 284
285 کے مطابق نقشہ کو شمالی رخ رکھا جائے تو مناسب ہو گا۔اس طرح سمجھنے میں سہولت رہے گی۔اگر عام دستور سے رُخ بدلنا ہوتو پھر شرقی رخ مناسب ہوگا۔بہشتی مقبرہ کا نقشہ بھی مناسب ہوگا۔چاردیواری کا نقشہ کافی نہیں بلکہ تفصیل ہونی چاہئے۔بشر طیکہ یہ ممکن ہو۔یہ بات مد نظر رہے کہ اگر کسی وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار کا ظاہری نشان موقع پر نہ بھی رہے تو پھر بھی اسے نقشے کی مدد سے قائم کیا جاسکے۔عید گاہ کا نقشہ تیار کرنے میں اگر کوئی پیچیدگی کا اندیشہ نہ ہو تو بے شک تیار کر لیں ورنہ ضرورت نہیں۔خواه نخواه خطرہ نہ مول لیا جائے۔البتہ اگر عید گاہ کے قریب ہمارے خاندان کی پرانی قبروں کا نقشہ بن سکے تو اس کی کوشش کریں۔غالباً اس کا ایک سرسری خاکہ میں نے سیرت المہدی میں بھی دیا تھا اسے بھی دیکھ لیا جائے۔جزاکم اللہ خیراً۔بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم وعلى عديد والسيح الموعود خاکسار مرزا بشیر احمد 7/9/00 مکرمی محترمی بھائی صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔مرزا برکت علی صاحب کا ارسال کردہ نقشہ پہنچ گیا ہے۔جزاہ اللہ خیراً۔مگر یہ نقشہ اتنا بڑا اور وسیع ہے کہ اسے ایک عام آدمی کے لئے سمجھنا مشکل ہے۔بہتر ہوتا کہ ٹکڑے کر دیئے جاتے۔مثلا" ایک ٹکڑے میں دارا مسیح ، قصر خلافت اور مسجد مبارک۔دوسرے میں مسجد اقصے اور دفاتر صدر انجمن احمدیہ۔تیسرے میں مدرسہ احمد یہ اور لنگر خانہ اور مہمان خانہ۔چوتھے میں حضرت مسیح موعود کا مطبع اور حضرت خلیفہ اول کا مکان۔پانچویں میں زنانہ جلسہ گاہ اور ملحقات اور چھٹے میں مقبرہ بہشتی اور باغ۔علاوہ ازیں مرزا صاحب نے اصطلاحیں بھی نئی کر دی ہے۔جو معروف نہیں اور ان کا سمجھنا مشکل ہو جائیگا۔معروف نام استعمال کرنے چاہئے مثلا" دفاتر صدرانجمن احمدیہ کو مستورات کے نماز پڑھنے کی جگہ لکھا گیا ہے۔مکانات