اصحاب احمد (جلد 1) — Page 285
286 مرز ا نظام دین صاحب وغیرہ کو وامتاز و اليوم ايهالمجرمون لکھا ہے۔بے شک اگر تبلیغ کی کتاب بنانی ہو تو ایسے الفاظ لکھے جاسکتے ہیں۔گو وہ بھی تشریح کے طور پر نہ کہ نام کے طور پر۔مگر جہاں تاریخی ریکارڈ محفوظ کرنا ہو وہاں معروف لکھنا چاہئے۔اسی طرح کمرہ تصنیف حقیقۃ الوحی معروف نہیں۔اس کی جگہ حجرہ ہونا چاہئے۔جس کے آگے بریکٹ میں بے شک کمرہ تصنیف حقیقۃ الوحی اور چشمہ معرفت لکھ دیا جائے۔بیت المجاہدہ کی جگہ بیت الریاضہ بہتر ہوگا یا صرف کمرہ جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شش ماہی روزے رکھے۔(کتاب البریہ میں دیکھ لیا جائے کہ روزوں کا زمانہ کتنا ہے) اسی طرح بعض غلطیاں بھی ہیں مثلا سیدہ ام طاہر مرحومہ کے مکان کی جنوبی کوٹھڑی کو قیام گاہ حضرت مسیح موعود لکھا ہے حالانکہ اس میں حضرت صاحب نہیں رہے۔بلکہ اس کوٹھڑی میں کچھ رہے ہیں یا کام کیا ہے جو گلی کے اوپر جانب شامل ہے۔صحن دار حضرت مسیح موعود (نمبر 5) میرے خیال میں غلط معلوم ہوتا ہے۔اسی طرح ہمارے دادا صاحب کی قبر کو پرانے پختہ فرش کے اندر دکھایا ہے حالانکہ وہ باہر تھی اور اب توسیع میں اندر آئی ہے۔اطاق پیدائش حضرت مسیح موعود میں اطاق کا لفظ غیر مانوس ہے وغیرہ وغیرہ۔غالبا" اس نقشے کو آپ نے غور سے نہیں دیکھا اب ضرور غور سے دیکھ لیں۔تاہم مرزا برکت علی صاحب موصوف نے محنت بہت اٹھائی ہے۔جزاھم اللہ خیرا۔میری طرف سے ان کا شکریہ ادا کر دیں اور۔۔۔۔۔کہ اوپر کے اصولی مشورہ کے ماتحت درست کر لیں۔اس کے بعد آپ بھائی عبدالرحیم صاحب اور مولوی عبدالرحمن صاحب اور بعض دوسرے پرانے دوست دیکھ لیں۔نقشے کی وسعت کی وجہ سے میں سارے حصوں کو غور سے نہیں دیکھ سکا۔فقط والسلام مرزا بشیر احمد