اصحاب احمد (جلد 1) — Page 27
27 إبْلِيسُ ظَنه رو رو کر دعائیں مانگو کہ مستزئین کے گمان تمہارے حق میں صادق نہ ہو جائیں۔خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کے تصرف کا نیا نمونہ اور معا ہمارے آقا و ہادی مسیح موعود علیہ السلام کے منجانب اللہ ہونے کا نیا ثبوت سُن لو۔مقرر تھا کہ اتوار کے دن ۲۵ جون کو حضرت مبارک احمد صاحب کا عقیقہ ہو۔اس کے لئے حضرت کی طرف سے بڑی تاکید تھی۔اس کام کے مہتمم ہمارے عزیز و معزز دوست منشی نبی بخش * صاحب تھے۔سب نے بڑے جوش ونشاط سے تسلیم کیا اور عرض کیا کہ اتوار کے دن یقیناًسب سامان ہو جائیگا۔اللہ تعالیٰ کا تصرف اور اس کی حکمت و قدرت دیکھو۔اتوار کو صبح صادق سے پہلے بارش شروع ہو گئی۔صبح کی نماز بھی ہم نے معمول سے سویرے پڑھی چونکہ بارش تھی اور ہوا خوب سرد چل رہی تھی اور بادل کی وجہ سے تاریکی بھی تھی۔یہ سب سامان ہم لوگوں کے لئے افسانہء خواب ہو گیا۔حضرت بھی سو گئے اور مہتمم صاحب بھی اپنے بسیرے میں جالیے۔دن خوب چڑھ گیا۔حضرت اُٹھے اور دریافت کیا کہ عقیقہ کا کوئی سامان نظر نہیں آتا۔گاؤں کے لوگوں کو دعوت کی گئی تھی اور باہر سے بھی کچھ احباب تشریف لائے تھے۔حضرت کو فکر ہوئی کہ مہمانوں کو ناحق تکلیف ہوئی۔ادھر ہمارے دوست نبی بخش صاحب بڑے مضطرب اور نادم تھے کہ حضور پاک میں کیا عذر کروں۔منشی صاحب حاضر ہوئے اور معذرت کا دامن پھیلایا۔خیر کریم انسان اور رحیم ہادی۔اس کی ذات میں درشتی اور سخت نکتہ چینی تو ہے ہی نہیں۔فرما یا فعل ما قدر مگر ہمارے ذکی الحواس دوست منشی صاحب کو صبر کہاں؟ یہ دل ہی دل میں گڑھیں اور پشیمان ہوں اور پھر دوڑے جائیں حضرت کی خدمت میں معذرت کیلئے۔ان کے اس حال کو دیکھ کر حضرت اقدس کو یاد آگئی اپنی ایک رؤیا و چودہ سال ہوئے دیکھی تھی۔جس کا مضمون یہ ہے کہ ایک چوتھا بیٹا ہوگا اور اس کا عقیقہ سوموار کو ہوگا۔خدا تعالیٰ کی بات کے پورا ہونے اور اللہ تعالیٰ کے اس عجیب تصرف سے حضرت اقدس کو جو خوشی ہوئی اس نے ساری ملامت اور عدم سامان کی کوفت کو دُور کر دیا اور دوسرے دن سوموار کو جب ہم سب خدام صحن اندرون خانہ میں بیٹھے تھے اور حضرت مبارک احمد صاحب کا سر مونڈا جا رہا تھا۔حضرت اقدس نے کس جوش سے یہ رویا * مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی درویش فرماتے ہیں کہ منشی نبی بخش صاحب نمبر دار بٹالہ مراد ہیں۔(مؤلف)