اصحاب احمد (جلد 1) — Page 252
251 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں : حضرت سیٹھ شیخ حسن صاحب احمدی یاد گیر جو اسی سال حج کے لئے تشریف لے گئے تھے ۱۲ محرم ۱۳۲۵ ہجری بروز پیر مدینہ منورہ میں فوت ہوئے۔جنت البقیع میں حضرت عثمان کی قبر کے قریب دفن ہوئے۔منی کے میدان میں • ارذی الحجہ کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی صحت و درازی عمر کے لئے ایک دنبہ صدقہ دیا اور مقام ابراہیم ، مقام رکن حجر اسود ملتزم، حطیم، غار حرا مسجد غره عرفات مسجد مزولفہ مقام شق صدر مسجد خیف۔جبل عرفات مساجد سیدنا ابوبکر و عمر رضوان اللہ علیہم اجمعین، مسجد جن اور مدینہ منورہ میں مساجد خمسہ مسجد فتح، مسجد سلمان فارسی، مسجد قبلتین، مسجد عمر ، مسجد ابوبکر ، مزارسید الشہداء حضرت حمزہ۔مقام شہادت دندان مبارک - مسجد قبا۔مسجد نبوی۔روضہ مبارک صلے اللہ علیہ وسلم۔جنت البقیع۔مسجد غمامہ اور دیگر مقامات مقدسہ و شعائر اللہ میں ہم نے حضور کی درازی عمر وفتوحات اسلامی کے حضور کی زندگی میں ہونے اور جماعت کی ترقی اور مبلغین کے لئے دعائیں کیں اور نوافل پڑھے“۔وفات کے متعلق رویا: آپ نے وفات سے ۱/۲ اسال قبل خواب سنایا جو کہ پورا ہو۔فرماتے تھے کہ خواب میں ایک فرشتہ آیا او مجھ سے کہا کہ آپ کو خدا نے بلایا ہے۔آپ تیار ہیں یا مہلت چاہتے ہیں؟ میں نے کہا کہ میں تیار بیٹھا ہوں۔اس پر فرشتہ نے مجھے ایک جگہ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ تمہاری قبر کی جگہ ہے کیا تم کو پسند ہے؟ میں نے کہا کہ میرے خدا کو جو پسند ہو وہی مجھے پسند ہے۔اور فرمایا کہ خواب میں اس جگہ کی مٹی عجیب رنگ کی دیکھی۔وہ مٹی یہاں دیکھنے میں نہیں آئی۔اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ وہ کہاں کی ہوگی۔اور بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جنت کی نعماء دکھائی اور چکھائی ہیں۔ان کی حقیقت میں بتا نہیں سکتا۔ایسے نظارے اور ایسے مزے میں نے نہ دنیا میں کبھی دیکھے نہ چکھے۔نیز بیان کیا کہ رویا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تین چار منورحسین چہروں والوں کی معیت میں دیکھا۔حضور کے دریافت کرنے پر عرض کیا کہ میں انہیں نہیں جانتا تو حضور نے فرمایا آپ ان سے ملئے یہ ابراہیم۔موسیٰ عیسی (علیہم السلام) ہیں اور رخصت ہونے لگا تو فرمایا دو باتیں یا درکھیں ایک تو یہ کہ جو کام آپ کرتے بقیه حاشیه : جدہ میں بیمار ہونے اور وہاں سے علاج کے لئے مدینہ منورہ لے جانے کا ذکر ہے۔جو سیٹھ صاحب کے ہمسفر کے مذکورہ بالا بیان کی رُو سے سہو ہے۔(مؤلف)