اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 251 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 251

250 آپ کو غسل دیا گیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار مبارک کے سامنے مسجد نبوی کے اندر جالی مبارک سے ذرا فاصلہ پر مصلی امام پر بعد عشاء جنازہ ہوا۔مسجد نبوی میں نعش باب الرحمتہ سے داخل ہوئی اور بعد جنازہ باب جبرئیل سے جنت البقیع کو لے جائی گئی۔چونکہ میں تنہا تھا اس لئے نماز جنازہ ایک اور شخص حیدر آبادی نے پڑھائی۔نماز جنازہ میں مؤذن صاحب مسجد نبوی اور مسجد نبوی کے حفاظت کرنے والے خواجہ سراء اور خدام لوگ تھے جن کی تعداد ۲۵٬۲۰ کے قریب تھی۔مجھے اکیلے کو دعا کے رنگ میں جنت البقیع میں قبر پر جنازہ کی ادا ئیگی کا موقعہ ملا۔مقام تدفین جنت البقيع : اہلبیت اطہار کے پیچھے اور حضرت عثمان کے مزار کے پچھلے حصہ میں اس طرح گویا دونوں کے درمیان والی جگہ جنت البقیع میں تدفین عمل میں لائی گئی۔قبر پہلے ہی سے تیار رہتی ہے کچھ اصلاح کرنی ہوتی ہے۔زمین جنت البقیع کی بہت نرم ہے۔چونکہ نعش کو تیزی کے ساتھ قبرستان میں لے جانے اور نہلانے اور تدفین کا کام کرنے کی عادت مدینہ کے ساکنین کو ہے اس لئے مغرب کے وقت انتقال کے معا بعد تین گھنٹہ کے اندر سب کچھ مکمل ہو گیا۔بعد میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے غائبانہ جنازہ قادیان میں پڑھایا۔“ آپ کی وفات کے متعلق الفضل میں ذیل کے نوٹ شائع ہوئے : ” جناب سیٹھ شیخ حسن صاحب یاد گیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ اور جماعت حیدر آباد کے اولین احمدیوں میں سے تھے۔آپ جماعت حیدر آباد کے اخلاص و قربانی کا ایک نہایت عمدہ نمونہ تھے۔بہت ہی متوکل اور خوبیوں والے بزرگ جماعت حیدر آباد کے لئے مرحوم کی وفات ایک نقصان عظیم ہے۔* وو تھے۔۔* الفضل جلد ۳۳ نمبر ۲ ۳۰ بابت ۲۶ دسمبر ۱۹۴۵ء۔یہ نوٹ سیٹھ محمد غوث صاحب کے صاحبزادہ اخویم سیٹھ معین الدین صاحب قائد خدام الاحمدیہ حیدر آباد دکن کی طرف سے شائع ہوا ہے۔اس میں سیٹھ صاحب کے (باقی اگلے صفحہ پر )