اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 250 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 250

249 صاحب نے کہہ دیا تھا کہ اب آپ کی آخری گھڑیاں شروع ہیں۔آپ تیاری کریں۔ان کے ایسا بار بار کہنے کے باعث میں سیٹھ صاحب کو کثرت سے دعا ئیں۔سورۃ یاسین۔قرآن شریف پڑھ کر سناتا۔کبھی چار پائی پر بیٹھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعائیں عربی اردو پڑھتارہتا۔کبھی مسجد نبوی میں جا کر دعا کرتا۔کاش! آپ کو صحت ہو جائے اور ایک نظر آپ کے ورثاء ہندوستان میں آپ کو با صحت دیکھ لیں۔کبھی کہتا یا اللہ سیٹھ صاحب کی تمنا تھی کہ حضور سے ملیں گے۔حضرت امیر المومنین سے ایک مرتبہ ملا دے۔تو ان کی موت میں التواء ڈال۔غرض عجیب عجیب اضطرابی کیفیت میں آپ کو تنہا پا کر دعائیں کرتا۔وفات وتدفين : آخر مدینہ منورہ میں پہنچنے کے تیرھویں روز وقت وصال آپہنچا اور آپ نے بوقت مغرب جبکہ مؤذن مسجد نبوی میں اذان دے رہا تھا۔مسجد نبوی کے قریب ہمکان رباط افضل الدولہ بروز پیر بتاریخ ۱۲ محرم ۱۳۶۵ھ بمطابق ۷ دسمبر ۱۹۴۵ء بعمر قریباً سو (۱۰۰) سال اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر دی۔انا لله و انا اليه راجعون۔مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ہمارے قافلے والوں کی طرف سے ہماری کافی مخالفت مذہبی ہوئی۔مدینہ منورہ میں بھی اندرونی بیسیوں چیزیں مخالفت کی پیدا کیں۔بعض دفعہ اس قسم کی اطلاعات بھی سیٹھ صاحب کے انتقال سے پہلے ملتی رہیں گویا کہ وہ نعوذ باللہ سیٹھ صاحب کے انتقال کے ساتھ احمدیوں کی تذلیل و تضحیک چاہتے تھے۔خصوصاً اس رنگ میں کہ آپ جنت البقیع میں دفن نہیں ہو سکیں گے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ان کے سارے منصوبے خاک میں ملا دیئے۔ہمیں دعاؤں کا زیادہ سے زیادہ موقعہ ملا۔ادھر اللہ تعالیٰ نے ہر رنگ میں حفاظت فرمائی۔اور آپ کو باوجود اندرونی کینوں اور مخالفتوں کے در بار رسول صلعم میں نہایت ہی عزت و احترام کے ساتھ داخل فرمایا۔اور یہ کام انہیں کے ذریعہ جو اس قسم کی ریشہ دوانیوں میں لگے رہتے تھے سرانجام پایا۔ہم نے بھی اللہ تعالیٰ کے شکر کے طور پر آپ کی وفات کے روز اور اگلے روز کافی رقم و پار چات صدقہ کے طور پر تقسیم کئے۔شر سورہ شریف جہاں وہ مقدس کنواں مسجد نبوی کا ہے جس سے غسل کا انتظام کیا جاتا ہے۔