اصحاب احمد (جلد 1) — Page 236
235 کرنی پڑی۔اخراجات زیادہ ہو گئے ہیں۔اس لئے مجھے یہ خط آپ کو تحریر کرنا پڑا ہے کہ ستمبر کے آخر تک معیاد ختم ہونی ہے اگر آپ کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو تو آپ اس معیاد کو فروری ۱۹۲۶ ء تک بڑھا دیں اس طرح مجھے ادا ئیگی میں سہولت ہو جائیگی۔لیکن اگر آپ کو ضرورت ہو تو بے شک بے تکلفی سے اطلاع دے دیں۔میں انشاء اللہ کسی نہ کسی طرح روپیہ کا انتظام کر کے آپ کو روانہ کر دونگا۔خاکسار مرزا محمود احمد نوٹ: (الف) اس مکتوب پر سہواً ۱۹۲۴ء کی تاریخ درج ہوئی ہے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی حرم محترم سیدہ امتہ الحی بیگم صاحبہ ۱۹۲۴ء میں فوت ہوئیں اور حضور نے ۱۹۲۵ء میں سیدہ سارہ بیگم صاحبہ سے شادی کی۔سو یہ مکتوب ۱۹۲۵ء کا ہے۔(ب) انبیاء اور خلفاء امت کے لئے اسوہ حسنہ ہوتے ہیں اور ان مکتوبات سے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی سیرۃ کے کئی اعلیٰ پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے۔اس لئے درج کر کے محفوظ کر دیئے گئے ہیں۔حضور کی سیرت لکھنے والے دوست فائدہ اٹھا سکیں گے۔انشاء الله (مؤلف) اس رقم کی ادائیگی کے بارہ میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے دو مکتوب درج ذیل ہیں: مکتوب نمبرا قادیان ۲۱ فروری ۱۹۲۶ء مکرمی سیٹھ صاحب السلام و علیکم ! روپیہ کی ادائیگی کا وقت آچکا ہے۔اور روپیہ کا انتظام اللہ تعالیٰ نے کر دیا ہے۔اب آپ جس طرح کہیں روپیہ بھیج دیا جائے یا قادیان میں آپ کسی کو دلوانا چاہتے ہوں تو وہاں دے دیا جائے۔حیدر آباد میں طاعون سے نہ معلوم یاد گیر کا کیا حال ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام احمد یوں کا حافظ و ناصر ہو۔والسلام خاکسار مکتوب 2 مکرمی سیٹھ صاحب مرزا محمود احمد