اصحاب احمد (جلد 1) — Page 231
230 خلافت ثانیہ تک بھجوائے۔جس پر آپ نے نصف لاکھ کے قریب روپیہ خرچ کیا۔چنانچہ اس امر کا ذکر کہ آپ ہزار ہاروپیہ ذاتی طور پر خرچ کر کے نادار طلبہ اور عزیز و اقارب کے بچوں کو قادیان میں تعلیم دلاتے ہیں اور یاد گیر کی صد ہا احمدی افراد کی جماعت کے ساتھ دامے درمے سخنے کام آتے ہیں مکرم سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب نے مرحوم کی وصیت کی تصدیق میں تحریر کیا ہے۔عبدالکریم صاحب کو جن کے متعلق سگِ دیوانہ والا نشان ظاہر ہوا آپ ہی نے حضرت اقدس کے زمانہ میں تعلیم کے لئے اپنے خرچ پر قادیان بھیجا تھا۔وہ آپ کی نسبتی بہن کے بیٹے تھے۔اسی طرح آپ نے یاد گیر میں ایک مدرسہ احمدیہ قائم کیا تھا جس کے جملہ اخراجات قریباً بارہ ہزار روپے سالانہ آپ برداشت کرتے تھے۔اس مدرسہ میں غریب طالب علم بکثرت داخل تھے۔فیس کسی طالب علم سے نہیں لی جاتی تھی۔بلکہ ان کے جملہ اخراجات تعلیم اور ناداروں کے لباس کے اخراجات بھی آپ کے ذمہ تھے۔اس طرح یہ غریب لوگ جو کسی صورت میں بھی اپنی غربت کی وجہ سے اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دلا سکتے تھے۔تعلیم پاتے تھے۔وہاں سرکاری نصاب کے علاوہ دینی تعلیم قرآن مجید حدیث شریف 'فقہ اور کتب سلسلہ احمدیہ بھی نصاب میں شامل تھیں۔بچوں کے اخلاق کی کڑی نگرانی ہوتی تھی اور اسلامی ماحول میں ان کی پرورش ہوتی تھی۔اس مدرسہ کی نفری ایک وقت سات صد طالب علموں اور آٹھ اساتذہ تک پہنچ گئی تھی لیکن پھر مالی خسارہ کے باعث پندرہ سال کے بعد بند کرنا پڑا تھا۔اب آپ کے ورثاء اسے از سر نو جاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اخویم سیٹھ محمد اعظم صاحب بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے مکرم مفتی محمد صادق صاحب سے سنا ہے کہ مسٹر المالطیفی (ریٹائرڈ ریونیوکمشنر پنجاب) نے جو کسی زمانہ میں ریاست حیدر آباد کے ناظم تعلیمات تھے۔مفتی صاحب سے کہا کہ میں بسلسلہ دورہ یاد گیر گیا ہوا تھا۔وہاں میں نے ایک جگہ بچوں کا جم غفیر دیکھا۔حیرانی سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ سیٹھ شیخ حسن صاحب کا قائم کردہ مدرسہ ہے۔میں نے اس کا معائنہ کیا جس سے معلوم ہوا کہ اس میں سرکاری طور پر قائم کردہ مدرسہ سے زیادہ طالب علم تعلیم پاتے تھے۔اور ان کا معیار تعلیم بھی سرکاری مدرسہ کے طالب علموں سے اعلیٰ تھا۔طلبہ سے فیس نہیں لی جاتی تھی بلکہ کتب وغیرہ ضروریات بھی سیٹھ صاحب کی طرف سے پوری کی جاتی تھیں۔جس جذبہ کے ماتحت سیٹھ صاحب نے مدرسہ قائم کیا تھا اور مفت تعلیم کا انتظام کیا تھا۔اس کی مسٹر المالطیفی بڑی تعریف کرتے تھے۔اور کہتے تھے کہ اس مدرسہ کے معائنہ کے بعد سے میرے دل میں جماعت احمدیہ کی تنظیم کی بڑی قدر و منزلت ہے۔سیٹھ صاحب نے بچیوں کی تعلیم کے لئے ایک مدرسہ احمدیہ اناث بھی جاری کیا تھا۔اس میں ابتداء میں آپ کی صاحبزادی محترمہ زہرہ بی صاحبہ تعلیم دیتی رہیں۔پھر اور استانیاں بھی رکھ لی گئی تھیں۔ایک وقت طالبات کی تعدا دستر تک پہنچ گئی تھی۔مدرسہ کے دیگر جملہ اخراجات اور تمام طالبات کے تعلیمی اخراجات کے علاوہ ان میں