اصحاب احمد (جلد 1) — Page 211
210 بسم اللہ الرحمن الرحیم محمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم وعلى عبده امسیح الموعود رتن باغ ۱۸/۱۲/۵۰ مکرمی محترمی ملک صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ آپ کا خط مورخہ ۱۲/۵۰ موصول ہوا۔جوابی کارڈ تو شاید یہاں کام نہیں آتا۔۔۔مولوی (منشی) محمد اسماعیل صاحب سیالکوٹی میرے بہت مہربان بزرگ اور دوست تھے اور میرے ساتھ بہت محبت رکھتے تھے۔یہ درست ہے کہ میں اُنہیں اکثر دعا کے لئے کہتا رہتا تھا۔لیکن بی اے کے امتحان کا واقعہ مجھے خاص طور پر یاد نہیں ہے گواس کے خلاف بھی کچھ یاد نہیں۔لیکن قاضی صاحب نے تو غالباً میرے ساتھ بی اے کا امتحان نہیں دیا تھا۔وہ بھی۔۔۔۔۔تھے اور گوانٹرنس پاس کر کے ٹیچر ہو گئے تھے اور بی اے بعد میں کیا لیکن بی اے بھی اغلبا مجھ سے پہلے کر چکے تھے۔علاوہ ازیں میرے ایک پر چہ کا خاص طور پر کمزور ہونا جہاں تک مجھے یاد ہے ایم اے کے امتحان کا واقعہ ہے نہ کہ بی اے کا لیکن منشی صاحب مرحوم کی جو خواب آپ نے لکھی ہے وہ مجھے یاد پڑتی ہے کہ منشی صاحب نے کسی موقع پر ضرور دیکھی تھی مگر یہ معلوم نہیں کہ وہ کون سا موقعہ تھا۔میں خدا کے فضل سے ( محض اُس کے فضل سے ) انٹرنس سے ایم تک کسی امتحان میں فیل نہیں ہوا۔کیا آپ کو میرا خط متعلق ملک مولا بخش صاحب مرحوم مل گیا تھا۔منشی صاحب بہت نیک اور محبت کرنے والے بزرگ تھے۔۲۔۴۔۔حوالہ جات یہ واقعہ جلسہ سالانہ ۱۹۰۶ ء کا ہے۔قادیان کے آریہ اور ہم۔الحکم ۲۴/۱۷ اگست ۱۹۰۴ء صفحه ۶ - حقیقته الوحی صفحہ ۲۲۷۔سیرۃ المہدی حصہ سوم روایت نمبر ۶۲۵۔الفضل جلد ۱۹ نمبر ۷۵ بابت ۲۲ دسمبر ۱۹۳۱ء۔