اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 208 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 208

207 زیادہ فکر ان کو اس بات کا تھا کہ لوگ کہیں گے کہ غریب آدمی تھا خرچ کر دیا اور مشہور کر دیا کہ روپیہ چوری ہو گیا۔بار بار وہ اس بات کو دہراتے تھے لیکن خدا تعالیٰ کا فضل ہوا کہ اسی دن تھوڑے ہی وقت میں میرے سامنے لڑکوں کی تلاشی لیتے ہوئے ایک لڑکے سے۔/ ۲۰۰ روپیہ کی رقم مل گئی۔حق کہنے میں نڈر ہونا : ایک اور بات ان کے کیریکٹر میں نہایت قابل تعریف یہ تھی کہ وہ بات کرنے میں نہایت بے خوف تھے اور سچی بات نہایت بے خوفی اور سختی سے کہتے تھے اور اس بارہ میں کسی کا کوئی لحاظ نہیں کرتے تھے۔ان کی اس سخت صاف گوئی کی وجہ سے بعض لوگ ان کو بد مزاج سمجھ لیتے تھے۔لیکن اَلْحَقُّ مُر کا مقولہ جس طرح ان کے متعلق پورا ہوتے دیکھا گیا بہت کم لوگوں کے متعلق دیکھا گیا ہوگا۔منشی صاحب بڑے ہی راست باز تھے“ خاکسار مؤ لف عرض کرتا ہے کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ منشی صاحب نے کسی کو خلاف شریعت یا اخلاق کوئی فعل کرتے دیکھا ہو اور اسے سمجھایا نہ ہو۔خواہ وہ کسی اعلیٰ سے اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتا ہو۔ہر وقت چوکس رہتے تھے اور اس امر کی خاص نگرانی رکھتے تھے کہ کہیں بھی کوئی امر خلاف اخلاق یا خلاف سنت وخلاف شرع نہ ہو۔ایک دفعہ آپ کے ایک دوست کی کم سن بچی ایک دکان پر آئی اس کی اوڑھنی کی طرف اشارہ کر کے جو بجائے سر کے اوپر اوڑھی ہوئی ہونے کے گلے میں پڑی تھی پوچھا یہ کیا ہے۔کہنے لگی یہ اوڑھنی ہے۔پوچھا یہ کس لئے ہوتی ہے۔کہنے لگی کہ سر پر اوڑھنے کے لئے۔تو فرمایا پھر اوڑھی ہوئی کیوں نہیں۔بچی کو اپنی غلطی سمجھ آ گئی اور فورا اوڑھنی سر کے اوپر اوڑھ لی۔آپ کا معاملہ فہم ہونا اوردیگر اوصاف حمیدہ: ملک غلام فرید صاحب مزید لکھتے ہیں :- یہ عبادت گزار۔راست باز۔امین اور اپنے آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم سے حد درجہ محبت کرنے والا انسان ایک لحاظ سے بہت بڑا دنیا دار بھی تھا۔دنیا دار“ کا لفظ میں بُرے معنوں میں استعمال نہیں کر رہا۔میرا مطلب یہ ہے کہ منشی صاحب مرحوم و مغفور نہایت معاملہ فہم اور سمجھدار انسان تھے۔ان کے جتنے احباب تھے ان میں سے جب کسی کو کوئی سونے کا زیور بنوانا ہوتا یا بڑی رقم کی کوئی جنس خریدنی ہوتی تو وہ منشی صاحب کی معرفت ہی اپنا سودا