اصحاب احمد (جلد 1) — Page 178
176 فکرمند تھے۔انہوں نے دعا اور استخارہ کیا تو الہام ہوا ” داماد مبارک“ ملک صاحب کا داماد جیسا ان کی لڑکی کے لئے مبارک ثابت ہوا اور اس کی مثال بھی بہت کم ملتی ہے۔“۔وفات سے چند ماہ قبل انہوں نے جماعت کے مستقبل کے متعلق ایک عجیب رویا دیکھا جس کا اظہار اس وقت مناسب نہیں۔غرضیکہ ملک صاحب مرحوم و مغفور ایک صاف دل صاف گور است باز بے تکلف حد درجہ متوکل علم دوست اور پابند صوم وصلوٰۃ بزرگ تھے۔“ حضرت صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب دام میضہم نے ملک صاحب کے متعلق جو مکتوب ارسال فرمایا ذیل میں درج ہے: بسم اللہ الرحمن الرحیم محمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم وعلى عبده السيح الموعود رتن باغ لاہور ٣/١٢/٥٠ مکرمی محترمی ملک صلاح الدین صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکانه آپ کا خط موصول ہوا۔جو کچھ مجھے یاد ہے لکھے دیتا ہوں: (1)۔ملک مولا بخش صاحب مرحوم غالباً ایجنٹ کے عہدہ پر مقرر ہو کر گئے تھے یعنی وہ سندھ کی اراضیات کی نگرانی کے لئے مالکوں کا قائم مقام تھے۔ان کے ماتحت مقامی حلقوں کے کام کے لئے مینیجر صاحبان تھے۔(2)۔مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ حضرت صاحب نے مجھے اور ملک صاحب مرحوم کو اپنی قائم مقامی سے اپیلوں کی سماعت کے لئے باقاعدہ مقرر کیا ہو لیکن یہ درست ہے کہ ملک صاحب موصوف بعض اپیلوں کو لیکر میرے پاس آتے تھے اور پھر ہم دونوں مل کر فیصلہ کرتے تھے۔یہ معلوم نہیں کہ ان خاص اپیلوں کے متعلق حضرت صاحب کا ارشاد تھا یا کہ عام تھا۔غالباً * ملک صاحب مرحوم نے مجھے داماد مبارک الہام کے متعلق لمبی تفصیل بھی تحریر کر کے دی تھی جس میں یہ بھی ذکر ہے کہ آپ کی اس بیٹی نے بھی خواب دیکھا تھا کہ اس کی جھولی میں چاند آ پڑا ہے۔چنانچہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام فیضہم کی تحریک پر آپ نے یہ رشتہ منظور کیا تھا۔(مؤلف) احمد