اصحاب احمد (جلد 1) — Page 164
162 ماتحتوں سے حسن سلوک جرات اور موقعہ شناسی : اخویم خواجہ عبدالکریم خالد صدر درویشان مقامی حلقہ مسجد مبارک نے نظامت جائیداد کے دفتر میں ملک صاحب کے ماتحت کئی سال کام کیا۔وہ بیان کرتے ہیں کہ آپ خندہ رُو تھے۔اپنے ماتحتوں کے ساتھ ماتحتوں والا نہیں بلکہ عزیزوں اور بھائیوں والا سلوک کرتے تھے اور افسری ماتحتی کا کبھی احساس نہیں ہونے دیتے تھے۔دوسرے فسادات ۱۹۴۷ء میں بعض اوقات دوسرے لائسنسدار اسلحہ رکھنے والے لوگ پہرہ کے لئے اپنا اسلحہ دینے سے احتراز کرتے تھے۔مبادا کوئی گرفت ہو کہ دوسرے کو کیوں دیا گیا ہے۔لیکن ملک صاحب انکار نہیں کرتے تھے کیونکہ خطرہ بہت بڑھ گیا تھا اور نہ کو ئی حکومت اور نہ ہی کوئی اخلاقی قانون یہ پابندی لگا سکتا ہے کہ جب کہیں ڈاکو حملہ کر دیں تو حفاظت کرنے والے اگر اس امر کوملحوظ نہ رکھیں گے کہ ہر ایک اپنا اسلحہ استعمال کرے تو حملہ آور مظلوم اور مدافعت کرنے والے ظالم قرار پائیں گے۔نکتہ رس ہونا قرآن مجید میں تدبر : ملک صاحب کے متعلق مکرم مرزا عبدالحق صاحب ایڈوکیٹ سرگودھا (مغربی پنجاب) سابق امیر جماعتہائے گورداسپور تحریر فرماتے ہیں کہ : چونکہ وہ ماشاء اللہ بہت ذہین اور عدالتی معاملات میں تجربہ کار تھے اور بعض سیشن ججوں کے ریڈر اور پھر کلرک آف کورٹ رہ چکے تھے اور قانونی باتوں کا خلاصہ نکالنا خوب جانتے تھے۔اس لئے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے حضور اپیلیں پیش کرنے کا کام سپر دفرمایا۔بعض اچھے اچھے غیر احمدی اور ہند و وکیل ملک صاحب مرحوم کی بہت تعریف کیا کرتے تھے۔ملک صاحب مرحوم نکتہ رس بہت تھے اور حاضر جواب۔بہت دفعہ قرآن کریم میں سے بڑے بڑے عمدہ نکات بیان فرمایا کرتے۔“ آپ کو قرآن کریم سے خاص عشق تھا اور قرآنی معارف و حقائق سننے کے لئے باوجود بیماری وکمزوری کے تعہد کرتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ کئی ماہ تک موسم سرما میں صبح کی نماز محلہ دارالفضل سے آکر دارالرحمت میں اس لئے ادا کرتے رہے تاکہ مکرم مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کے درس میں شریک ہو کر ان کے حقائق و معارف سے مستفیض ہوں۔رمضان المبارک میں جو درس مسجد اقصے میں ہوتا اس میں بھی التزام کے ساتھ شریک ہوتے۔آپ کی صاحبزادی آمنہ بیگم صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ ملک صاحب بیان کیا کرتے تھے کہ بعض اعتراضات کے جواب فوری طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے دل میں ڈالے جاتے ہیں جن کا معترض پر بڑا اچھا اثر ہوتا ہے۔