اصحاب احمد (جلد 1) — Page 152
150 * روزہ نہیں چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعہ سے ہمارے عمل سے اس سنت رسول اللہ کا اعلان کروا دیا۔پھر تو سب لوگ خاموش ہو گئے اور مفتی صاحب کی خوب بن آئی اور وہ ہر ایک کے سر چڑھے کیوں سُنا ؟ حضرت صاحب نے فرمایا ہے کہ میں نے بہت اچھا کیا۔تم خواہ مخواہ گرم ہوئے تھے۔وغیرہ۔امرتسر کے لوگوں نے حضرت کو اس لئے پتھر مارے کہ حضور نے سفر میں روزہ نہیں رکھا تھا۔آئندہ (سال) رمضان شریف میں امرتسر میں وہ ملیر یا پڑا کہ غالبا پانچ فیصدی کے سوا سب بیمار تھے اور ان کو اس آیت کی عملی تصدیق ہوگئی کہ مسافر اور بیمار کو روزہ نہیں رکھنا چاہئے۔* صوفی غلام محمد صاحب امرتسری کا حضور کی امامت میں نماز ادا کرنا : ” میرے دوست صوفی غلام محمد صاحب مرحوم سکنہ امرتسر ( والد صوفی عبدالرحیم صاحب ملازم ریلوے دہلی ) پرانے احمدی تھے۔انہوں نے مجھے بتلایا کہ ایک دفعہ وہ اپنے طالب علمی کے زمانہ میں جب بیعت نہ تھی ( یعنی اعلان بیعت سے قبل ) حضرت مسیح موعود کو قادیان آکر ملے اور مسجد میں نماز پڑھی۔صرف حضرت مسیح موعود امام تھے اور وہ مقتدی کوئی تیسرا آدمی نہ تھا۔“ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کے ساتھ کشتی کی سیر : آپ بیان کرتے تھے کہ خلافت اولی میں غالبا 1909ء کی بات ہے میری عمر میں سال کی تھی اور میرے ساتھ کو چہ وکیلاں امرتسر کے رہنے والے ایک احمدی دوست شیخ غلام جیلانی صاحب تھے۔ان کی عمر اس وقت ہیں خطوط وحدانی کے الفاظ میری طرف سے ہیں۔حضرت اقدس سفر دہلی ولدھیانہ سے واپسی پر جماعت امرتسر کی درخواست پرے نومبر ۱۹۰۵ء کو امرتسر میں اُترے۔حضور اور خدام کو جماعت نے اس مکان میں ٹھہرایا جوس ۱۸۹ء میں بوقت مباحثہ آتھم حضور کا قیام گاہ تھا اور ۱۰ نومبر کو حضور قادیان تشریف لے آئے تھے (الحکم جلد 4 نمبر ۳۹ صفحہ کالم ۳ بابت، انومبر ۱۹۰۵ء دنمبر ۴۰ صفحه ۱ کالم ۲ بابت ۷ انومبر ۱۹۰۵ء) بدر میں حضور کے لدھیانہ سے امرتسر نومبر کو پہنچنے کا ذکر ہے (غیر معمولی پر چہ سفر د بلی صفحہیہ کالم۲) بدر کا پورا فائل دستیاب نہیں ہوسکا کہ صحیح تاریخ نکالی جا سکے۔ملک صاحب کی یہ روایت THE PROMISED MESSIAH IN AMRITSAR کے زیر عنوان ریویو آف ریلیچنز (انگریزی) بابت ماہ مئی ۱۹۴۲ء میں شائع ہو چکی ہے۔البتہ وہاں اتنی بات آپ نے زائد لکھی ہے کہ لوگوں کے ایک طبقہ پر حکم الہی کے حقیقی معنی خدا تعالیٰ کے رحم پر یقین کے ذریعہ ظاہر ہوئے۔تو دوسرے طبقہ پر خدا تعالیٰ کے غضب کے ظہور کے ساتھ۔حضور نے حکم خداوندی کی تعمیل خوشی سے کر لی اور معترضین اس کی تعمیل پر مجبور کئے گئے۔ملک صاحب نے سہو سے اس ۱۹۰۵ء کے واقعہ کور یو یو میں ۱۹۰۰ء میں ہونا تحریر کیا ہے۔(مؤلف)