اصحاب احمد (جلد 1) — Page 138
136 مجھے مشورہ دیا کہ یہ رویا حضرت اقدس کی خدمت میں لکھ دوں۔مجھے شرم تو محسوس ہوتی تھی لیکن لکھ دیا۔حضور کا جواب آیا کہ آپ کی خواب رویا صالحہ ہے۔لٹو سے مراد دنیا کے دور ہیں۔اس سے مراد یہ ہے کہ ابتداء میں مخالفوں کے دور زوروں پر ہونگے مگر انجام کار اللہ تعالیٰ ہم کو فتح دے گا۔ملک صاحب بیان کرتے تھے کہ یہ خواب جس طرح پوری ہوئی، جس طرح قادیان کا قصبہ بڑھا۔یہ سب کو معلوم ہے اور لطف یہ ہے کہ مجھے اب بحیثیت پریذیڈنٹ ٹاؤن کمیٹی قادیان اس کام سے خاص تعلق ہے۔شاید یہ خواب اسی لئے مجھے دکھائی گئی۔اور حدیث شریف میں ذکر آتا ہے کہ مسیح موعود کی پھونکوں سے کفار مریں گے اس سے مراد آپ کی دعائیں ہی تھیں۔اور خواب میں پھونک سے مراد بھی دعا ہی ہوتی ہے۔اور آخری سالوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مباحثات کا طریق بالکل بند کر دیا تھا۔اور فرمایا تھا کہ اب ہم دعا سے کام لیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال: * ملک صاحب بیان کرتے تھے کہ : حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے ( رنجدہ سانحہ ) کی خبر میرے ایک چچا صاحب نے مجھے اس وقت دی جب میں عدالت مطالبہ خفیفہ امرتسر میں ایک عرضی دعوی کا انگریزی ترجمہ کر رہا تھا۔اس وقت ( اس المناک خبر کے سنتے ہی مجھے اس قدر شدید صدمہ ہوا کہ ) گو چندلمحوں کے لئے ہی ایسا ہوا مگر میری نظر بالکل جاتی رہی اور سامنے پڑے ہوئے کاغذ کے حروف نظر نہ آتے تھے۔دوسرے روز ہم بمعہ ڈاکٹر عباداللہ صاحب اور وسرے دوستوں کے صبح کی گاڑی سے بٹالہ اور وہاں سے یکہ پر قادیان گئے۔وہاں حضور کے چہرہ کو جو اس وقت بھی نورانی تھا دیکھا۔انتخاب خلافتِ اولی ہو ا۔اور پہلے جن لوگوں نے بیعت کی ان میں میں نے بھی خلافت اولیٰ کی بیعت کا شرف حاصل کیا۔اس سے اگلے جمعہ کو مجھے یہ توفیق ملی کہ میں نے پہلی دفعہ تقریر کی۔اور جماعت کو سمجھایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو کہتے تھے (کہ) رسول اللہ (صلعم) فوت نہیں ہوئے اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ انہیں مرنے والا نہ سمجھتے تھے بلکہ بعض پیشگوئیاں تھیں۔جو حسب خیال پوری نہ ہوئی تھیں۔یہاں بھی یہی حال ہے۔اور اُسی طرح پوری ہوں گی۔خطوط وحدانی والے الفاظ میری طرف سے ہیں۔(مؤلف) *56