اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 139 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 139

137 بیعت خلافت ثانیه : خلافت اولیٰ کے آخری ایام میں سلسلہ خلافت کو آئندہ کے لئے ایک قلم موقوف کرنے کے لئے ایک طبقہ سر توڑ کوشش کر رہا تھا ان دنوں حضرت خلیفہ مسیح الاول اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف بے بنیاد الزامات کی تشہیر کی گئی۔احباب اس وقت کے حالات کا کچھ اندازہ اس وقت کے اخبارات اور رسائل خلافت احمدیہ ضمیمہ خلافت احمدیہ اور اظہار حقیقت کے مطالعہ سے لگا سکتے ہیں کہ جماعت میں کس قدر زلزلہ عظیمہ برپا کیا گیا تھا۔جس کے نتیجہ میں جماعت کا ایک حصہ ہمیشہ کے لئے منقطع ہو گیا۔خلافتِ اولی کے قیام اور اپنی بیعت کے ذکر کے بعد ملک صاحب قیام خلافت ثانیہ پر اپنی بیعت کا واقعہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ بیعت خلافت ثانیہ کا معاملہ البتہ مختلف ہے۔حضرت خلیفہ اول کی وفات سے ایک روز پہلے میں قادیان گیا اور حضرت خلیفہ اول کو بے ہوشی کی حالت میں دیکھا اور وہاں سے امرتسر چلا گیا۔دوسرے دن جب میں گورداسپور جار ہا تھا۔کیونکہ ان دنوں میں وہاں سیشن کورٹ میں کلرک آف کورٹ تھا تو بٹالہ ریلوے سٹیشن پر ایک ہندو یکہ بان نے مجھے اطلاع دی کہ مولوی صاحب فوت ہو گئے۔اگر چہ تجہیز و تکفین ابھی نہ ہوئی تھی۔مگر مجھے ( یہ ) خیال تھا کہ خلافت پر کچھ جھگڑا ہوگا۔اس لئے میں اس خیال سے اس وقت قادیان نہ گیا کہ معلوم نہیں وہاں کیا فیصلہ ہو۔ایسا نہ ہو (کہ) میں کسی وقتی رو میں بہہ جاؤں اور پھر مشکل ہو۔خیال یہ کیا کہ بعد میں غور کر کے جو پہلو مناسب ہوگا اختیار کر لیا جاوے گا۔گورداسپور پہنچا تو مولوی محمد علی صاحب کا وہ ٹریکٹ جو انہوں نے خلافت کے خلاف لکھا تھا بذریعہ ڈاک آیا ہو ا تھا۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ پہلے سے تیار تھا اور جو نہی حضرت خلیفہ اول کی وفات کی تار (لا ہور ) پہنچی اسے سُپر د ڈاک کر دیا گیا۔اس کے بعد الفضل اور پیغام صلح میں خلافت کے متعلق بحث شروع رہی۔اور میں قریباً دو ماہ تک ہر دو پرچوں کو دیکھتا رہا مگر کوئی فیصلہ نہ کر سکا۔لیکن جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو خود ہی سامان پیدا کر دیتا ہے۔امرتسر میں انجمن ترقی تعلیم کا جلسہ ہو ا۔اس میں مولوی محمد علی صاحب بھی۔۔۔۔۔۔آئے میں ان کو شیخ محمد عمر صاحب بیرسٹر ایٹ لاء کے مکان پر جا کر ملا۔وہ میرے پہلے ( سے ) اچھے واقف تھے ان سے ذیل کی گفتگو ہوئی۔