اصحاب احمد (جلد 1) — Page 122
120 ایک پرانے صحابی مکرم بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی ( درویش) کے دل میں تحریک پیدا کی کہ چونکہ منشی صاحب قدیم صحابہ میں سے ہیں، اس لئے قطعہ خاص میں جگہ ملنی چاہئے۔چنانچہ بھائی جی کے ذکر کرنے پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام فیضہم نے بعض اور پرانے صحابہ سے بھی شہادتیں لے کر پوری تحقیق کرنے کے بعد حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں دھر مسالہ تار دلوایا اور منظوری آنے پر قطعہ خاص صحابہ میں دفن کئے گئے۔* جنازہ میں تقریباً تمام بزرگان سلسلہ جو قادیان میں موجود تھے شامل ہوئے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے میت کو کندھا دیا اور دفن کرنے کے بعد دعا بھی کرائی۔آپ کی وفات پر ذیل کا نوٹ زیر عنوان مدینہ امسیح (بابت ۲۶ جولائی ) شائع ہوا۔افسوس منشی امام الدین صاحب مہاجر وفات پاگئے۔انا للہ وانا اليه راجعون - حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی اور مرحوم مقبرہ بہشتی کے قطعہ صحابہ میں دفن کئے گئے۔احباب بلندی درجات کے لئے دعا کریں۔A آپ کی اہلی زندگی: آپ کی شادی محترمہ کریم بی بی صاحبہ بنت میاں امام الدین صاحب قوم ارائیں سکنہ اوجلہ (ضلع گورداسپور ) سے ہوئی تھی۔جنہوں نے اپنے خاوند کی تبلیغ سے ان کے چھ سات ماہ بعد ۱۸۹۴ء میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی تھی۔اولاد شجرہ نسب میں دکھائی گئی ہے۔ان میں سے ایک کا نام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رکھا تھا۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام فیضہم فرماتے ہیں: و بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی امام الدین صاحب سابق پٹواری حال محله دارالرحمت قادیان نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فراست دی گئی تھی کہ حضور علیہ السلام کو بعض دفعہ دوسرے شخص کی دل کی بات کا علم ہو جایا کرتا تھا۔جس وقت میرا لڑکا ظہور احمد پیدا ہوا تو میں قادیان آیا۔مسجد مبارک میں چند دوست بیٹھے تھے۔میں نے ان سے ذکر کیا کہ میں چاہتا ہوں کہ میرے لڑکے کا نام حضور میرے بڑے لڑکے نثار احمد کے نام پر رکھیں۔لیکن میرا بھی یہی خیال تھا اور دوسرے احباب * راقم ان دنوں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ہمراہ بطور پرائیویٹ سیکرٹری متعین تھا۔مجھے خوب یاد ہے کہ حضور نے اس معاملہ میں تار آنے پرمنشی صاحب کو قطعہ ، خاص میں دفن کرنے کی اجازت دی تھی۔(مؤلف)