اصحاب احمد (جلد 1) — Page 10
10 اس کا طریق ہے کہ جس طرح بیویاں بچے اور رشتہ دار برکات سے حصہ لیتے ہیں۔اسی طرح وہ گہرے دوست بھی برکات سے حصہ لیتے ہیں جو نبی کے ساتھ اپنے آپ کو پیوست کر دیتے ہیں۔یہ لوگ خدا کی طرف سے ایک حصن حصین ہوتے ہیں اور دنیا ان کی وجہ سے بہت سی بلاؤں اور آفات سے محفوظ رہتی ہے۔مجھے جو شعر بے انتہاء پسند ہیں ان میں سے چند شعر وہ بھی ہیں جو حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے وقت ایک مجذوب نے کہے۔تاریخوں میں آتا ہے کہ حضرت جنید بغدادی جب وفات پاگئے۔تو ان کے جنازہ کے ساتھ بہت بڑا ہجوم تھا اور لاکھوں لوگ اس میں شریک ہوئے۔اس وقت بغداد کے قریب ہی ایک مجذوب رہتا تھا۔بعض لوگ اُسے پاگل کہتے اور بعض ولی اللہ سمجھتے۔وہ بغداد کے پاس ہی ایک کھنڈر میں رہتا تھا۔کسی سے کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا۔اور نہ لوگوں سے بات چیت کرتا۔مگر لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ جب جنازہ اٹھایا گیا تو وہ بھی ساتھ ساتھ تھا۔راوی کہتا ہے کہ میں نے دیکھا وہ نماز جنازہ میں شریک ہوا۔قبر تک ساتھ گیا اور جب حضرت جنید بغدادی کو لوگ دفن کرنے لگے تو اس وقت بھی وہ اسی جگہ تھا۔جب لوگ حضرت جنید بغدادی کو دفن کر چکے تو اس نے آپ کی قبر پر کھڑے ہو کر یہ چار شعر کہے۔وا اسفا على فراق قوم ہم المصابيح والـحـصـــون والمدن و المزن و الرواسي والخير والامن و السكون لم تتغير لنا الليالي توفهم المنون فكل جمرلنا قلوب وكل ماء عيون اس کے معنے یہ ہیں کہ : ہائے افسوس ان لوگوں کی جدائی پر جو دنیا کے لئے سورج کا کام دے رہے تھے اور جو دنیا