اصحاب احمد (جلد 12) — Page 6
کہ ہر وقت کا ساتھ ہو گیا۔اور ہمارے تعلقات بے تکلفانہ ماں بیٹے کے نہیں بلکہ بہن بھائی کے سے رہے۔وہ بہت سیدھے سادے سے تھے۔ان کو سب کا مل کر چھیڑنا اور ستا نا اور پھر ان کے غصہ سے لطف اٹھانا۔ایک ایک بات یاد آ رہی ہے۔غصہ میں بھڑک اٹھتے پھر جلدی ہی نرم ہو جاتے کیونکہ دل آئینہ کی طرح صاف تھا۔اب اتنا بے تکلف قریب کوئی نہیں۔جس سے جھگڑ کر بھی لطف آئے ، جس کو چڑا کر بھڑکا کر بھی مزہ لیا جا سکے، وہ برابری کی ، ہم عمری کی عمر بھر کی یکجائی کی بے تکلفی اب کہاں ڈھونڈوں؟ ایک دم رہ گیا ہے خالد کا وہ یوں دور پڑے ہیں۔مگر عبداللہ خاں اتنے سادہ اور گھڑی میں تولہ گھڑی میں ماشہ مزاج کے صرف روزمرہ کی باتوں میں تھے۔دین وایمان کے معاملہ میں ہمیشہ انتہائی ثابت قدم اور ایک مضبوط چٹان کی مثال رہے۔ایمان و اخلاص میں وہ بالکل اپنے والد مرحوم کا نمونہ تھے۔کسی حالت میں دینی معاملات میں نہ ان کی زبان پھسلی نہ دل بہ کا۔قابل نمونہ پختہ ایمان و اخلاص کا وہ شخص تھا۔یہ ایک دیانتدارانہ شہادت ہے ان کو تمام زندگی قریب سے دیکھتے ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تمام دعاوی پر صدق دل سے ایمان رکھنے والے، خلافت سے ظاہر و باطن ، دل و جان سے وابستہ رہنے والے۔کوئی معترض ان پر کسی قسم کا اثر ہر گز نہیں ڈال سکتا تھا۔دنیوی چھوٹی چھوٹی باتوں میں کسی کا اثر اپنے بھولے پن سے جتنی جلدی لے لینے کی عادت تھی اتنے ہی دینی امور میں ایک ایسا پختہ پہاڑ تھے جس پر کوئی وار بھی خراش تک نہ ڈال سکتا تھا۔ایک زمانہ میں اکبر شاہ خانصاحب نجیب آبادی ان پر بہت مہربان تھے اور یہ بھی ان کے بہت ہی معتقد۔ہر وقت ان کی تعریفیں کیا کرتے مگر جہاں وہ خلافت سے اور خلافت کے ساتھ ہی احمدیت سے برگشتہ ہونے لگے تو شروع کے ہی آثار دیکھ کر ان سے دل اتنا بیزار ہوا کہ نام بھی لینا پسند نہ کرتے تھے۔ایک دوست جن سے بہت محبت تھی ان کی زبان سے کوئی سلسلہ کی باتوں کے متعلق اعتراض وغیرہ سن کر سخت ناراض ہوئے یا تو ان کی ہر بات کو ہر ایک کے مقابلہ میں اہمیت دینے کے عادی تھے یا یہ کہ صدمہ اور ناراضگی کی حد نہ تھی۔دل کے بے حد نرم تھے۔غصہ میں کسی کو کچھ کہہ دیا تو پھر اس سے زیادہ خود کوفت اٹھائی۔استغفار پڑھ رہے ہیں اور زیرلب دعا ہو رہی ہے۔اپنی غلطی فورا مان لینا اور تدارک کی کوشش کرنا دوسروں کی ذراسی نیکی سے بہت متاثر ہونا ان کی عادت تھی۔کسی خادم کو نماز پڑھتا دیکھ لیتے تو اس کے اتنے